وفاقی بجٹ 2026-27 اور سالانہ اقتصادی سروے کا سسپنس ختم ہوا۔ سرپنچوں کا کہا بھی سر ماتھے پر رہا اور پرنالہ بھی وہیں کا وہیں رہا۔ حکومت نے سکھ کا سانس لیا کہ آئی ایم ایف کے ماتھے پر شکن نہیں آئی اور اپنی اتحادی جماعت کی بجٹ سے عین پہلے ماتھے پر پڑی تیوری بھی سیدھی ہو گئی۔
حسین اتفاق تھا کہ عین بجٹ اجلاس سے پہلے وزیراعظم نے پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کی دعوت بھی دے دی۔ یوں حکومت نے بھرپور اعتماد کے ساتھ اپنا تیسرا بجٹ پیش کر دیا جس کا خلاصہ کلام مالیاتی استحکام رہا۔
غلط یا صحیح کی بحث میں الجھے بغیر حکومت کا مؤقف تسلیم کہ چند برس قبل پاکستان شدید معاشی بحران سے دوچار تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک گر چکے تھے، بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ بڑھ رہا تھا، افراطِ زر بلند ترین سطح پر تھی اور معیشت دیوالیہ پن کے خدشات کی زد میں تھی۔
ایسے حالات میں استحکام ناگزیر تھا۔ مالیاتی نظم وضبط ضروری تھا اور آئی ایم ایف پروگرام ناگزیر تھا۔ اس پس منظر میں اگر آج افراطِ زر میں کمی آئی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ نسبتاً قابو میں ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے ہیں اور مالیاتی اشاریوں میں استحکام آیا ہے تو اسے یکسر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لیکن سوال یہ ہے کہ اس استحکامی سفر کی کوئی آخری منزل بھی ہے؟
اقتصادی سروے کے اعداد وشمار کے مطابق معیشت ابھی تک اس رفتار کو حاصل نہیں کر سکی جو ایک نوجوان آبادی سے بھرے پرے ملک کو درکار ہے۔ صنعتی شعبہ مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ زراعت، جو معیشت کی بنیاد سمجھی جاتی ہے، بڑی فصلوں میں مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں مسلسل ناکام ہے۔
نجی سرمایہ کاری بدستور جمود کا شکار ہے اور برآمدات میں اضافے کا خواب شرمندگی تعبیر سے محروم ہے۔ تسلیم کہ معیشت کو بحران سے نکال لیا گیا ہے لیکن ہم اسے ترقی یعنی گروتھ کی شاہراہ پر ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
کیوں نہیں ہو سکے؟ اس کے لیے یہ نکتہ سمجھنا بڑا ضروری ہے کہ پاکستان کا معاشی مسئلہ مالیاتی سے زیادہ ساختیاتی یعنی اسٹرکچرل اور ادارہ جاتی ہے۔ ہماری معیشت کئی دہائیوں سے پیداوار کے بجائے کھپت، بچت کے بجائے قرض، مسابقت کے بجائے مراعات اور برآمدات کے بجائے درآمدات پر استوار ہو چکی ہے۔ ہم نے ایک ایسا پولیٹیکل اکنامک نظام تشکیل دیا ہے جس میں نئی دولت پیدا کرنے کے مقابلے میں موجود وسائل اور مراعات کا حصول آسان اور زیادہ منافع بخش ہے۔
ہر چند برس بعد ایک ہی سفر نئے دائرے میں شروع ہو جاتا ہے۔ معیشت کچھ عرصہ تیز چلتی ہے، درآمدات بڑھتی ہیں، بیرونی خسارہ پیدا ہوتا ہے، بحران آتا ہے، آئی ایم ایف پروگرام شروع ہوتا ہے، استحکام آتا ہے اور پھر چند سال بعد وہی کہانی دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔
اقتصادی سروے اور بجٹ پر تبصروں کا خلاصہ بھی کم و بیش یہی ہے کہ پاکستان استحکام اور بحران کے درمیان جھولتا رہتا ہے مگر پائیدار نمو کی طرف پیش رفت نہیں کر پاتا۔کیا دنیا کے دوسرے ممالک نے بھی ایسے حالات کا سامنا کیا تھا؟
جواب ہے، ہاں۔ ویتنام، بنگلہ دیش، ترکی اور انڈونیشیا جیسے ممالک مختلف ادوار میں شدید معاشی اور انتظامی چیلنجوں سے گزرے۔ ان ممالک نے بھی مالیاتی استحکام کو اہمیت دی لیکن اسے منزل نہیں بنایا۔ انھوں نے تعلیم، فنی تربیت، برآمدی صنعت، مقامی پیداواری صلاحیت، عالمی منڈیوں تک رسائی اور ریاستی صلاحیت میں مسلسل سرمایہ کاری کی۔
ویتنام آج چار سو ارب ڈالر سے زیادہ کی برآمدات کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش نے گارمنٹس اور افرادی قوت کو قومی ترقی کی بنیاد بنایا۔ انڈونیشیا نے ایشیائی مالیاتی بحران کے بعد صنعتی اور ادارہ جاتی اصلاحات کا سفر جاری رکھا۔ ان تمام مثالوں میں ایک بات مشترک تھی: استحکام کے ساتھ ساتھ نمو کی بنیادیں بھی رکھی گئیں۔ پاکستان میں بدقسمتی سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔
پاکستان نے استحکام کی قیمت تو ادا کی مگر وسیع البنیاد بنیادی اصلاحات سے حقیقی معنوں میں گریز کیا۔ یہ فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اصلاحات کا مطلب حکومتی ڈھانچے کو مؤثر بنانا، غیرضروری اخراجات کم کرنا، سرکاری اداروں کی نجکاری یا تنظیم نو، ٹیکس استثنیٰ کا خاتمہ، گورننس میں بہتری اور مراعات یافتہ ڈھانچوں میں تبدیلی ہوتا ہے۔ حکومتی سطح پر ان بنیادی اصلاحات سے گریزپائی کی بھاری قیمت مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں عوام نے ادا کی۔
متوسط طبقہ ہر گزرتے برس شدید دباؤ کا شکار ہوتا آیا ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول، ڈیزل، تعلیم اور صحت کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے گھریلو بجٹ کو متاثر کیا ہے۔ تنخواہوں اور مہنگائی کے درمیان فرق نے لاکھوں خاندانوں کی قوتِ خرید کم کی ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد روزگار کے محدود مواقع اور غیریقینی مستقبل کے باعث مایوسی کا شکار ہے۔
غربت کے اشاریے بھی تشویش ناک ہیں۔ مختلف تخمینوں کے مطابق غربت کی شرح تیس فیصد کے لگ بھگ ہے جب کہ عالمی بینک کے بعض اندازوں کے مطابق آبادی کے چالیس فیصد سے زائد کو غربت کا سامنا ہے۔
کسی بھی معاشی حکمت عملی کی کامیابی کا آخری پیمانہ عوام کی زندگیوں میں بہتری ہوتا ہے۔ یہ اعداد وشمار چغلی کھا رہے ہیں کہ اور بھی غم ہیں زمانے میں’’استحکام‘‘ کے سوا…
ایک اہم پہلو گورننس کا بھی ہے۔ وفاقی حکومت میکرو اکنامک پالیسی، تجارت، سرمایہ کاری، محصولات اور مالیاتی نظم وضبط کی ذمے دار ہے لیکن تعلیم، صحت، زراعت، مقامی انفراسٹرکچر اور بیشتر عوامی خدمات اب صوبوں کے دائرۂ اختیار میں ہیں۔
اگر صوبائی سطح پر گورننس کمزور ہو تو اسلام آباد کی بہترین معاشی پالیسی بھی مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکتی۔
ایک اور دلچسپ اور عجیب تضاد بھی قابل غور ہے کہ صوبے وفاق سے زیادہ وسائل اور اختیارات تو چاہتے ہیں لیکن انھی وسائل کو مقامی حکومتوں تک منتقل کرنے پر آمادہ نہیں۔
اختیارات کا ارتکاز اسلام آباد سے نکل کر صوبائی دارالحکومتوں تک تو پہنچا مگر ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح تک منتقل نہ ہو سکا حالانکہ معیاری تعلیم، بنیادی صحت، صاف پانی، مقامی سڑکیں، شہری منصوبہ بندی اور زرعی خدمات جیسی بنیادی ذمے داریاں مقامی حکومتوں کے بغیر مؤثر انداز میں انجام نہیں دی جا سکتیں۔
سہ سالہ استحکام کے سفر کے بعد اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کو کب تک استحکام کی مجبوری سہنی پڑے گی؟ ترقی کے اگلے مرحلے کا حقیقی آغاز کب ہوا گا؟ قومیں صرف مالی خسارے کم کرکے ترقی نہیں کرتیں، وہ اس وقت آگے بڑھتی ہیں جب صنعت پھلتی پھولتی ہے، برآمدات میں اضافہ ہوتا ہے، کسان کی پیداوار بہتر ہوتی ہے، نوجوان کو روزگار ملتا ہے اور متوسط طبقہ سکڑنے کے بجائے مضبوط ہوتا ہے۔
سہ سالہ استحکامی سفر کے بعد کیا پاکستان ایک ایسی معیشت کھڑی کر سکے گا جو قرض کی بجائے پیداوار سے، کھپت کی بجائے برآمدات سے اور مراعات کی بجائے محنت، مہارت اور مسابقت سے ترقی کر سکے۔