اس سال کا بجٹ آچکا ہے ، اب تمام بحث و مباحث اسی حوالے سے جاری ہیں کہ ہماری معیشت اس وقت کہاں کھڑی ہے؟ تمام ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا کی توجہ کا مرکز اور بحث کا موضوع بھیا بجٹ ہے۔
کچھ سال پہلے تک افراطِ زر 38 فیصد تھا اور انٹرسٹ ریٹ22 فیصد تھا، ایسی صورتحال میں اگر ہم ایٹمی قوت ہیں بھی تو سوویت یونین کی طرح ہمارا وجود خطرے میں تھا۔
یقیناً یہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا کہ افراط زر سنگل ڈیجٹ تک آئی ہے اور انٹرسٹ ریٹ میں بھی ایک سو فیصدکم ہوئی مگر یہ کہنا کہ ہماری معیشت بحال ہو گئی ہے، قبل ازوقت ہے۔
ہماری معیشت بڑے مثبت انداز میں بہتری کی طرف تھی مگر خلیج کی جنگ کے تناؤ کا اثر ہمارے ملک پر بھی ہوا۔ اس کے منفی اثرات ہماری معیشت پر واضح ہیں، وہ ممالک جو اس تناؤ سے متاثر ہوئے ہیں، ان کی معیشت پاکستان کی طرح کمزور نہ تھی۔ اس تناؤ کے اثرات منفی ضرور ہیں مگر بدترین نہیں۔ ہمارے زرِمبادلہ کے ذخائر بہتر پوزیشن میں ہیں۔
اس وقت جن ستونوں پر ہماری معیشت کھڑی ہے وہ بنیادی طور پر کمزور ہیں۔ اس خطے میں دوسرے ممالک کی بہ نسبت ہمارے غیرترقیاتی اخراجات زیادہ ہیں۔ ہندوستان کی آبادی ڈیڑھ ارب ہے اور سات فیصد اس کی شرح نمو ہے۔
ان کے دفاعی اخراجات ہم سے آٹھ گنازیادہ ہیں۔ ہندوستان نے اپنے دفاعی اخراجات میں مزید 15%اضافہ کیا ہے۔ ہم دنیا کی چوتھی بڑی معیشت، ہندوستان کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہمیں بہت سی فالٹ لائنز ورثے میں ملی ہیں جس نے دونوں ممالک کی سیاست کو ایک مخصوص سوچ کی طرف راغب کیا۔
دنیا کو اس بات سے کوئی لینا دینا بھی نہ تھا بلکہ بڑی طاقتوں نے ہمارے ان تضادات سے فائدہ اٹھایا۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس خطے میں امن قائم رہنا ہماری اولین ضرورت ہے کیونکہ اس سے ہماری معیشت جڑی ہوئی ہے۔
یہی بات ہندوستان پر بھی لاگو ہوتی ہے، باوجود اس کے کہ پچھلے تیس برس میں ہندوستان کی شرح نمو سات فیصد سے بڑھی ہے، جب سے انھوں نے ڈاکٹر من موہن سنگھ ڈاکٹرائن اپنائی ہے۔
دنیا کے معاشی ماہرین بہت حد تک اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں کہ آزاد عدلیہ، آزاد پارلیمان، قانون کی حکمرانی، ملکی معیشت اور سماجی انصاف کے لیے راستے ہموار کرے گی۔ ہمارے انسانی وسائل انتہائی محدود ہیں اور پبلک انفرا اسٹرکچر جو عام لوگوں کے لیے ہے، وہ خستہ حالی کا شکار ہے۔
جن سرکاری سکولوں میں ڈاکٹر من موہن سنگھ، ڈاکٹر محبوب الحق اور ڈاکٹر سلام نے پڑھ کر فیلوشپ کی ڈگریاں حاصل کیں، اب ایسے سکولوں کا کوئی وجود باقی نہیں رہا۔ غربت کی لکیر کے نیچے رہنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھتی رہی اور اب ان کی شرح تقریباً47% ہے۔
شفاف پانی کی رسائی پاکستان کی پچاس فیصد آبادی کو بھی میسر نہیں۔ بے روزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے جو کہ پچھلے بیس سالوں کا ریکارڈ توڑ چکی ہے۔ Human Resource Indicators ہمیں افریقہ جیسے پسماندہ ملک کی صف میںکھڑا کرتے ہیں۔
ہمارا ترقیاتی بجٹ ہر سال جتنا بنایا جاتا ہے، اس بجٹ میں ہمارے اخراجات مکمل نہیں ہوتے اور پھر اس بجٹ میں وقتاً فوقتاً کٹوتی بھی کی جاتی ہے اور غیرترقیاتی اخراجات کے بجٹ میں جو پیسے مخصوص کیے جاتے ہیں ان پیسوں سے بھی زیادہ ہی خرچ ہو جاتے ہیں۔
ہمارے ٹیکس سسٹم میں مجموعی پیداوار کے دس فیصد برابر ٹیکس کی وصولی کی جاتی ہے اور اس کا 45% ڈائریکٹ ٹیکسز سے ملتا ہے جب کہ 55% ان ڈائریکٹ یعنی سیلز ٹیکس، پیٹرولیم لیوی وغیرہ سے ملتا ہے۔
ہماری کل معیشت کی سالانہ مجموعی پیداوار تین سو ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے جس میں سے 10% تقریباً گیارہ ہزار ارب روپے ٹیکس کی وصولیابی سے ملتے ہیں۔ ڈائریکٹ ٹیکسز کے بڑے پارٹ وتھ ہولڈنگ ٹیکس سے ملتے ہیں جو کہ اشیاء کی خریداری پر لگتے ہیں۔ آمدنی کے ٹیکس کی مد میں کم حاصل ہوتے ہیں۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میںڈائریکٹ ٹیکسز کل ٹیکسز سے حاصل شدہ رقم ستر فیصد سے لے کر اسی فیصد ہے۔ اس میں کچھ اضافہ بھی ہوا، امیر طبقات کو ٹیکس سرکل میں لانے سے، متوسط طبقہ اور غریب لوگوں پر ٹیکس کا اضافی بوجھ ہے جو کہ سماجی انصاف کے تقاضوں کے حوالے سے ایک حوصلہ شکن عمل ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان سے دس ہزار نو جوان پڑھائی کی غرض سے برطانیہ گئے اور وہاں انھوں نے سیاسی پناہ لینے کی درخواست دائر کردی۔ تقریباً سات ہزار نوجوان آذر بائیجان وزٹ ویزا پر گئے لیکن پاکستان واپس نہیں آئے۔ مئی کے مہینے میں تارکین وطن کی ترسیلات نے پچھلے تما م ریکارڈز توڑ دیے، یہ بات خوش آئند تو ضرور ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اب ہنر مند لوگ پاکستان میں نہیں رہے۔
پاکستان میں کال سینٹرز کی نوکریوں کے ذریعے یہاں کے نو جوان آن لائن فراڈ میں ملوث پائے گئے۔ سکولوں، کالجز اور بڑے تعلیمی اداروں میں آئس کا نشہ عام ہوتا جا رہا ہے۔ متوسط طبقے کے گھرانوں کا سب سے بڑاخرچہ ان کے بچوں کے تعلیمی اخراجات ہیں اور غریب لوگ اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج سکتے۔
ہماری آبادی کا 60% حصہ تیس سال سے کم عمر نوجوانوں پر مبنی ہے اور آبادی کے اس حصے میں بہت بے چینی پائی جاتی ہے۔ بلوچستان میں یہ شرح دوسرے صوبوں کی نسبت زیادہ ہے اور وہ لوگ ایک مخصوص بیانیہ کا شکار ہیں۔
آئی ایم ایف ہمیں ڈکٹیٹ کرتا ہے لیکن اس کا ہونا نہ ہو نے سے بہتر ہے، اگر آئی ایم ایف ہمارے ساتھ نہیں ہوتا تو اس کامطلب یہ ہے کہ ملک دیوالیہ ہو رہا ہے۔ اسی لیے آئی ایم ایف ہماری مجبوری ہے۔ ہماری ایکسپورٹ میں کمی واقع ہوئی ہے، تر سیلاتِ زر میں اضافہ ہوا ہے، شرح نمو بھی تین فیصد کے لگ بھگ رہی ہے، قرضوں کے حجم میں اضافہ ہوا ہے۔
سود کی ادائیگی بجٹ کا سب سے بڑا حصہ پہلے بھی تھا مگر اس دفعہ بجٹ تقریباً پچاس فیصدیا ایف بی آر سے ملتے ٹیکسز کا اسی فیصد، سود اور قرضوں کی ادائیگی میں چلا جائے گا۔ ہماری مجموعی آمدنی ہے اٹھارہ ہزار ارب روپے اور بجٹ ہے تین ہزار ارب روپے سے زیادہ۔
اب ہمیں صوبوں کا بجٹ NFC کے حوالے سے بھی کم کرنا ہوگا اور دفاع کے لیے بھی قرضوں کی ضرورت پڑے گی لہٰذا ایک ایسی جامع پالیسی کی ضرورت ہے جس سے انسانی وسائل بہتر ہوں اور ان کے ہونے سے ہم زرِمبادلہ کما سکیں نہ کہ قرضوں کے ذریعے۔ ہمارے ہنرمند نوجوان ملک سے باہر نہ جائیں بلکہ روزگار کے مواقعے ان کو ملک میں میسر ہوں۔ اس طرح ملکی معیشت کو پروان چڑھنے کے لیے ایک فطری ماحول ملے گا۔
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہاں کی اشرافیہ ہے جو نہ صرف ٹیکس چور ہے بلکہ ترقیاتی بجٹ میں بھی خوردبرد کی ذمے دار ہے۔ بری حکمرانی کے باعث ان کا عدلیہ کی آزادی، پارلیمان کی اجارہ داری، اچھی حکمرانی اور قانون کی بالادستی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔