کراچی:
مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں زرعی ذخیرہ گاہوں اور اسٹوریج انفرااسٹرکچرکیلیے صرف 7۔1 ارب روپے مختص کیے جانے پر ماہرین نے تحفظات کااظہارکیاہے،جبکہ پاکستان میں صرف گندم کے سالانہ نقصانات کا تخمینہ 140 ارب روپے سے زائد لگایاجاتاہے۔
ایگریکلچر ریپبلک کے شریک بانی عامر حیات بھنڈارا نے کہاکہ پاکستان کاذخیرہ جاتی نظام زرعی ویلیوچین کی سب سے کمزورکڑیوں میں شمارہوتاہے۔
ملک کو ناکافی گوداموں،فرسودہ ذخیرہ گاہوں،کولڈچین کی شدیدکمی،ناقص ہینڈلنگ اور کیڑوں و نمی سے ہونیوالے نقصانات جیسے مسائل کاسامناہے،گندم کیلیے سرکاری خریداری نظام کے تحت نسبتاً بہتر انتظامات موجودہیں، تاہم مکئی، دالوں، پھلوں اور سبزیوں سمیت دیگر فصلیں بعد ازبرداشت نقصانات کے حوالے سے انتہائی غیرمحفوظ ہیں۔
سندھ آبادگار بورڈکے نائب صدرمحمودنواز شاہ کے مطابق اگر قبل از برداشت، بعداز برداشت اورذخیرہ کاری کے دوران ہونیوالے نقصانات کو یکجاکیاجائے تو مجموعی زرعی پیداوارکاتقریباً 35 فیصدمختلف مراحل پرضائع ہوجاتاہے۔
باغبانی کے شعبے میں صورتحال مزیدتشویشناک ہے، پاکستان سالانہ تقریباً 3 کروڑ ٹن پھل وسبزیاں پیداکرتاہے، لیکن ملک میں کولڈاسٹوریج کی گنجائش 10 لاکھ ٹن سے بھی کم ہے۔ اسی طرح پاکستان کی گندم کی پیداوار تقریباً 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن ہے، مگر جدید ذخیرہ گاہوں کی استعدادصرف 3 سے 5 لاکھ ٹن تک محدودہے،جو پیداوارکے حجم کے مقابلے میں ناکافی ہے۔
ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف انفراسٹرکچرکانہیں بلکہ زرعی مارکیٹنگ نظام کی خامیوں کابھی ہے،مالی وسائل کی کمی کے باعث اکثرکسان فصل کٹتے ہی کم قیمت پرفروخت کرنے پر مجبورہو تے ہیں،کیونکہ بینک اور مالیاتی ادارے بعد از برداشت فنانسنگ میں خاطرخواہ دلچسپی نہیں لیتے۔
پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر احمدجوادنے ذخیرہ کاری کیلیے نئی مالیاتی سہولت کومثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہاکہ اگر اسے الیکٹرانک ویٔر ہاؤس رسیدوں،اجناس کی منڈیوں میں اصلاحات اور نجی شعبے کی شمولیت کے ساتھ جوڑاجائے تو یہ زرعی ویلیوچین کی جدیدکاری میں اہم کردار اداکرسکتی ہے۔
ماہرین کاکہناہے کہ پاکستان کاذخیرہ جاتی نظام مختلف سرکاری و نجی اداروں، تاجروں،آڑھتیوں اورکسانوں کے درمیان بکھراہواہے،جس کے باعث سپلائی چین، معیار،مارکیٹ معلومات اورذخیرہ کاری کے انتظام میں متعددمسائل پیداہوتے ہیں۔
انہوں نے قومی ویٔر ہاؤس رسیدی نظام، ڈیجیٹل انوینٹری مینجمنٹ، اجناس کی ٹریکنگ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اورفصل بیمہ کے ساتھ ذخیرہ کاری کو منسلک کرنے جیسی اصلاحات کی ضرورت پر زوردیا۔
ماہرین کے مطابق موثرذخیرہ کاری نہ صرف کسانوں کو بہترقیمت دلانے میں مدددیتی ہے، بلکہ منڈی میں قیمتوں کے استحکام، خوراک کے تحفظ اور برآمدات کے فروغ کیلیے بھی ناگزیر ہے،تاہم دیہی علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ اور توانائی کی عدم دستیابی جدیدکولڈاسٹوریج نظام کیلیے بڑی رکاوٹ ہے۔