پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اسلام آباد معاہدے پر دستخط کا قریب آ جانا ایک تاریخی لمحہ ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی توجہ مضبوطی سے پاکستان پر مرکوز ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں جاری بے چینی نہ صرف کشمیری کاز بلکہ پاکستان کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ موجودہ صورتحال دشمن عناصر اور خصوصاً بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کو اپنے مقاصد کے لیے فائدہ اٹھانے کا غیر ضروری موقع فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے تمام مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ اپنا احتجاج پرامن طور پر ختم کریں، جبکہ جن افراد نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے وہ خود کو مقامی حکام کے حوالے کریں اور قانونی عمل کو اپنا راستہ اختیار کرنے دیں۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام سیاسی شکایات اور اختلافات کا حل جمہوری، آئینی اور پرامن ذرائع سے نکالا جانا چاہیے اور ایسے معاملات کو حل کرنے کے لیے مناسب فورمز موجود ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے یاد دلایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پہلے ہی الیکشن کمیشن سے قبل از وقت جاری کیے گئے انتخابی شیڈول کو واپس لینے کا مطالبہ کر چکی ہے اور پارٹی سیاسی حل کے حصول کے لیے پُرعزم ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ زیر التوا شکایات کے ازالے، عمل کو آگے بڑھانے اور معاملات کو منصفانہ اور پائیدار انجام تک پہنچانے کے لیے ایک "ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن" کے قیام کی کوشش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے عوام کو بار بار احتجاج، محاذ آرائی اور غیر یقینی صورتحال کے چکروں سے نہیں گزرنا چاہیے۔
بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ اگر وفاقی حکومت سمیت تمام فریق متفق ہوں تو آزاد کشمیر حکومت احتجاج کرنے والی جماعتوں سے متعلق جاری کردہ نوٹیفکیشنز کا مناسب وقت پر جائزہ لے سکتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے اور غیر قانونی اقدامات میں ملوث افراد کو جوابدہ ٹھہرانے کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، البتہ یہ بھی ضروری ہے کہ جن افراد نے کوئی غلط کام نہیں کیا انہیں دوسروں کے اقدامات کے نتائج نہ بھگتنا پڑیں۔