لندن: برطانیہ کے 100 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے لندن میں منعقد ہونے والے ایک اسرائیلی رئیل اسٹیٹ ایونٹ کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس تقریب کے ذریعے مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع اسرائیلی بستیوں سے منسلک جائیدادوں کی تشہیر اور فروخت کی جا سکتی ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اپنے مشترکہ مؤقف میں کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں موجود زمینیں اور جائیدادیں متنازع حیثیت رکھتی ہیں، لہٰذا ان کی برطانیہ میں تشہیر یا فروخت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت متنازع سمجھی جاتی ہیں، اس لیے ایسی تقریبات غیر قانونی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کا باعث بن سکتی ہیں۔ ان کے مطابق فلسطینیوں کی زمینوں کو سرمایہ کاری کے مواقع کے طور پر پیش کرنا انتہائی تشویش ناک عمل ہے۔
رپورٹ کے مطابق مذکورہ تقریب کے اشتہارات میں سرمایہ کاروں کو مقبوضہ مغربی کنارے کے بعض علاقوں میں زمین اور جائیداد خریدنے کی پیشکش کی گئی تھی، جس کے بعد اس معاملے نے سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں بحث چھیڑ دی۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل یوکے نے بھی اس ایونٹ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور وہاں بڑھتے ہوئے تشدد پر عالمی سطح پر خدشات موجود ہیں، اس نوعیت کی تقریب کا انعقاد نامناسب اور غیر ذمہ دارانہ اقدام ہوگا۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ایسی سرگرمیاں ان بستیوں سے متعلق کاروباری اور مالی مفادات کو فروغ دے سکتی ہیں جنہیں بین الاقوامی سطح پر متنازع قرار دیا جاتا ہے۔
یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی علاقوں میں زمینوں، بستیوں اور انسانی حقوق کے مسائل پر بین الاقوامی توجہ پہلے ہی مرکوز ہے اور برطانیہ میں بھی اس حوالے سے سیاسی بحث شدت اختیار کر رہی ہے۔