انشورنس سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز قائمہ کمیٹی سے منظور کرلی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فنانس بل میں شامل انشورنس سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز کی منظوری دیدی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک کو نئے کاروباری ماڈل کی طرف جانا ہوگاسپر ٹیکس میں کمی کی گئی ہے۔ فنانسنگ میں اضافہ کیا گیا ہےاور ایف بی آر کے آپریٹنگ ماڈل میں بھی بنیادی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں جبکہ چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ کاروباری سرگرمیوں کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی طرف پیش رفت کی جا رہی ہے اور ملوں میں ایف بی آر اہلکار تعینات کرنے کے بجائے جدید ڈیجیٹل نظام نصب کیا جائے گا۔
اجلاس میں کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ناکام نظاموں کو وقفے وقفے سے دوبارہ متعارف کرانا مسئلے کا حل نہیں ہے۔
اجلاس میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کا شق وار جائزہ لیا گیا جبکہ ٹیکس قوانین، مالیاتی اصلاحات اور مختلف تجاویز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ایف بی آر حکام نے مختلف شقوں پر وضاحتیں پیش کیں اور مجوزہ اصلاحات سے متعلق بریفنگ دی۔
اجلاس کے دوران لارج سکیل مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن نے ریفنڈز کے مجوزہ نظام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صنعت پہلے ہی بھاری مالی دباؤ کا شکار ہے اور وہ ڈبل ٹیکس ادا نہیں کرے گی۔ ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بتایا کہ بڑے صنعتی یونٹس ماہانہ 15 سے 17 کروڑ روپے جبکہ متعدد چھوٹے یونٹس بھی 15 سے 20 کروڑ روپے تک کے بجلی بل ادا کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ریفنڈز کے موجودہ طریقہ کار سے صنعت کو شدید مشکلات کا سامنا ہوگا اور اس سے صنعتی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔
چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ کاروباری سرگرمیوں کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی طرف پیش رفت کی جا رہی ہے اور ملوں میں ایف بی آر اہلکار تعینات کرنے کے بجائے جدید ڈیجیٹل نظام نصب کیا جائے گا۔ جو صنعتیں اس نظام کا حصہ نہیں بنیں گی ان پر دو فیصد اضافی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔
مزید برآں سات سال مکمل کرنے والی یا سات سال بعد میچور ہونے والی انشورنس پالیسیوں کو بھی اس نئے ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ اجلاس میں برآمدات میں کمی کے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ سلیم مانڈوی والا نے تجویز دی کہ ایکسپورٹرز پر عائد ٹیکس کی شرح ایک فیصد کی جائے جبکہ چیئرمین کمیٹی نے ایک فیصد ٹیکس کو فائنل ٹیکس قرار دینے کی سفارش کی۔
سلیم مانڈوی والا نے گزشتہ دس سال کے دوران ایف بی آر کے مختلف تجربات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ ناکام نظاموں کو وقفے وقفے سے دوبارہ متعارف کرانا مسئلے کا حل نہیں ہے۔
دوسری جانب ٹیلی کام انڈسٹری کا کہنا تھا کہ ایف بی آر اہداف حاصل نہیں کررہا ہے قوم پر یہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈالتے جارہے ہیں۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ ٹیلکوز کا ایڈوانس ٹیکس اگر آٹھ فیصد کردیا جائے تو کیا انڈسٹری ٹیکس بڑھا کر دے گی۔
ٹیلکوز نمائندوں نے ٹیکس کی رقم بڑھا کر جمع کروانے کی یقین دہانی کروادی۔ جبکہچیئرمین کمیٹی نے ٹیلی کام۔کمپنیوں سے تحریری یقین دہانی مانگ لی۔