پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اپنے کھلاڑیوں کے سینٹرل کانٹریکٹس سسٹم میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے ایک نیا اور منفرد اسٹرکچر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
عالمی کرکٹ کے مسلسل ارتقاء کے ساتھ یہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے کرکٹرز کو ایک ہی پیمانے پر پرکھنا اب حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس بدلتی ہوئی صورتِ حال میں قائدانہ کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور’ایک ہی نظام سب کے لیے‘کی پالیسی کو ترک کرتے ہوئے ایسا اسٹرکچر بنایا ہے جو ہر فارمیٹ کی الگ شناخت، اہمیت اور ضروریات کو واضح طور پر تسلیم کرتا ہے، انہیں ترجیح دیتا ہے اور ان کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔
جہاں دنیا کے بیشتر کرکٹ بورڈز اب بھی تمام کھلاڑیوں کو ایک ہی درجہ بندی میں رکھتے ہیں اور ایک ٹیسٹ اسپیشلسٹ کو ٹی ٹوئنٹی فرنچائز کھلاڑی کے ساتھ ایک ہی گریڈ کے لیے مقابلے میں کھڑا کرتے ہیں، وہاں پاکستان کرکٹ بورڈ نے چیئرمین محسن نقوی کی زیر نگرانی ایک ایسا ماڈل متعارف کروانے کا فیصلہ کیا یے جو ہر فارمیٹ کی الگ شناخت اور ترجیحات کو تسلیم کرتا ہے۔
نئے نظام میں صرف تنخواہوں کے گریڈز ہی تبدیل نہیں کیے گئے بلکہ جدید کرکٹ کے اس سب سے مشکل سوال کا جواب بھی دیا گیا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کے دور میں ٹیسٹ کرکٹ کو زندہ کیسے رکھا جائے اور ہر فارمیٹ کے کرکٹر کے ساتھ انصاف کیسے کیا جائے؟
کرکٹ فارمیٹ کی باضابطہ نشاندہی
نئے فریم ورک کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اب ایک مخصوص کرکٹ فارمیٹ سے وابستگی کو باضابطہ اور اسٹرکچرل حیثیت دی گئی ہے۔
سینٹرل کانٹریکٹ رکھنے والے ہر کھلاڑی کو ایک مخصوص فارمیٹ پاتھ وے سے منسلک کیا جائے گا۔
بعض پاتھ ویز ریڈ بال یعنی ٹیسٹ کرکٹ پر مبنی ہوں گے جبکہ دیگر وائٹ بال یا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ پر مرکوز ہوں گے۔
کھلاڑی کا منتخب کردہ پاتھ وے اس بات کا تعین کرے گا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس سے کیا توقعات رکھتا ہے اور اس کے بدلے میں اسے کیا سہولیات اور مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ یہ انتخاب واضح دستاویزی اور عملی اثرات کا حامل ہوگا۔
اہم ترین بات یہ ہے کہ اس فریم ورک میں مختلف فارمیٹس کی ترجیح اور عدم ترجیح کو شفاف انداز میں متعین کیا گیا ہے۔
نئے سسٹم میں ٹیسٹ کرکٹ کو خصوصی تحفظ دیا گیا ہے۔ چونکہ قومی فرائض کے علاوہ ٹیسٹ کرکٹرز کے لیے آمدنی کے مواقع محدود ہوتے ہیں، اس لیے سینٹرل کانٹریکٹ سسٹم کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ سے وابستہ کھلاڑیوں کو اضافی تحفظ اور مراعات مل سکیں۔
وائٹ بال اور ٹی ٹوئنٹی
مختصر فارمیٹ کے ماہر کرکٹرز کے لیے اب ایک واضح اور باعزت راستہ موجود ہوگا۔ کوئی بھی فارمیٹ غیر متعین کردہ نہیں رہے گا۔ ہر پاتھ وے کے اپنے تقاضے اور اپنے مواقع ہوں گے۔
تمام فارمیٹس کی باضابطہ درجہ بندی کی گئی ہے اور ترجیحی نظام اس فریم ورک کو عالمی سطح پر منفرد بناتا ہے۔
چار گریڈز سے پانچ فارمیٹ ٹریکس تک
پرانے نظام میں کھلاڑیوں کو اے، بی، سی اور ڈی کیٹیگریز میں تقسیم کیا جاتا تھا جو صرف معاوضے کی سطح کو ظاہر کرتی تھیں لیکن نئے نظام میں ان کی جگہ پانچ واضح فارمیٹ ٹریکس متعارف کرائے گئے ہیں۔
ٹریک اے بی - دوہرا فارمیٹ (ٹیسٹ اور ون ڈے)
اس فارمیٹ کا حصہ پاکستان کے وہ نمایاں کھلاڑی بنیں گے جو کہ ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیموں کی بنیاد ہیں۔ یہ بورڈ کی پرائم کیٹییگری ہوگی۔
ٹریک اے - ریڈ بال اسپیشلسٹ (ٹیسٹ کرکٹ)
اس فارمیٹ سے وابستہ کھلاڑی مکمل طور پر ٹیسٹ کرکٹ کے لیے وقف ہوں گے۔ اس ٹریک کا مقصد ٹیسٹ اسپیشلسٹس کو تحفظ اور فروغ دینا ہے۔
ٹریک بی سی - وائٹ بال (ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل)
اس فارمیٹ سے وہ کھلاڑی وابستہ ہوں گے جو محدود اوورز کی کرکٹ کے اسپیشلسٹ ہوں گے۔
ٹریک ڈی – ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اور فرنچائز اسپیشلسٹ
یہ کیٹیگری مختصر فارمیٹ کے ماہر کھلاڑیوں کے لیے ہو گی جنہیں قومی ذمہ داریوں کے ساتھ فرنچائز کرکٹ کھیلنے کی زیادہ آزادی حاصل ہوگی۔
تمام ٹریکس دو بنیادی اصولوں پر قائم ہوں گے۔ پہلا یہ کہ ہر کھلاڑی کا موازنہ صرف اپنے ہی ٹریک کے کھلاڑیوں سے کیا جائے گا اور دوسرا یہ کہ ہر ٹریک میں دو داخلی درجات ہوں گے جن میں کارکردگی کی بنیاد پر ترقی یا تنزلی ممکن ہو گی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ ہر ٹریک میں موجود معاہدوں کی تعداد یا تقسیم کو عوامی طور پر ظاہر نہیں کرے گا۔
ٹیسٹ کھلاڑیوں کے لیے ایک تاریخی فیصلہ
نئے سینٹرل کانٹریکٹ سسٹم کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹ اسپیشلسٹس کو پہلی مرتبہ دنیا کی بڑی فرسٹ کلاس ریڈ بال مقابلہ جاتی لیگز میں کھیلنے کی اجازت دی جائے گی۔ یہ اجازت مختصر فارمیٹ نہیں بلکہ صرف ریڈ بال کرکٹ کے لیے ہوگی۔
اس فیصلے کا مقصد ٹیسٹ کرکٹرز کو دنیا کے سخت ترین فرسٹ کلاس ماحول میں تجربہ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مزید بہتر ہو کر پاکستان کی نمائندگی کر سکیں۔
فرنچائز ٹی ٹوئنٹی لیگز بدستور اس گروپ کے لیے بند رہیں گی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ نظام کیوں متعارف کروایا؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ بتانا ضروری ہے کہ پاکستان عالمی کرکٹ کی سب سے بڑی مارکیٹس میں سے ایک میں کام کرتا ہے۔
پاکستانی کھلاڑی دنیا بھر کی فرنچائز لیگز میں مقبول ہیں اور کرکٹ بورڈ نے اس حقیقت سے لڑنے کے بجائے اس کے مطابق ایک مؤثر نظام بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
دراصل پاکستانی کرکٹرز کے لیے سینٹرل کانٹریکٹس کا پرانا سسٹم دو مسائل پیدا کرتا تھا۔
پہلا یہ کہ مختصر فارمیٹ میں اچھی کارکردگی دکھانے والا کھلاڑی بعض اوقات ایک کمٹڈ ٹیسٹ کرکٹر سے زیادہ فائدہ حاصل کر لیتا تھا۔
دوسرا یہ کہ ٹیسٹ کرکٹ اسپیشلسٹس کے لیے وائٹ بال کرکٹ میں نمایاں کارکردگی دکھانے کے بغیر ترقی کے مواقع محدود تھے۔
نیا نظام ان دونوں مسائل کا خاتمہ کرتا ہے کیونکہ ہر کرکٹر کا موازنہ صرف اسی فارمیٹ کے کرکٹر سے ہوگا جس سے وہ وابستہ ہے۔
اگلا سوال یہ ہے کہ کرکٹرز سینٹرل کانٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے کیسے اہل ہوں گے؟ اس کے لیے انہیں تین مرحلوں پر مشتمل ایک نظام سے گزرنا ہو گا۔
مرحلہ اول: میڈیکل اور فٹنس ٹیسٹ
ہر کھلاڑی کی جامع میڈیکل اور فٹنس اسسمنٹ کی جائے گی۔ اس کا مقصد کھلاڑیوں کی طویل مدتی صحت اور کیریئر کا تحفظ ہے۔
مرحلہ دوم: ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت
سینٹرل کانٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے کرکٹرز کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں فعال طور پر شریک ہوں۔
مرحلہ سوم: کارکردگی کا جائزہ
ہر کھلاڑی کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔
جوابدہی پر مبنی سسٹم
کرکٹ بورڈ کا نیا فریم ورک سینٹرل کانٹریکٹ کو پہلے سے زیادہ شفاف بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کھلاڑیوں کو ان کی وابستگی اور کارکردگی کی بنیاد پر جانچا کیا جائے گا اور بورڈ ہر فیصلے کا واضح جواز پیش کر سکے گا۔
یہ فریم ورک 2026 کے کانٹریکٹ سائیکل سے نافذ العمل ہوگا اور سابقہ نظام کی جگہ لے گا۔