اسرائیلی فوج نے غزہ کے علاقے شیخ رضوان کے ابو اسکندر علاقے میں ایک گھر پر ڈرون برسا دیا جس میں درجنوں افراد رہائش پذید تھے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی غزہ میں اسرائیل کے ڈرون حملے میں بچے سمیت 2 فلسطینی جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
اسرائیلی فوج نے اس تازہ حملے پر فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا تاہم ماضی میں اسرائیل کا مؤقف رہا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا ہدف مسلح گروپوں کے ارکان ہوتے ہیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ حملے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ امدادی کارکنوں نے ملبے سے زخمیوں کو نکال کر اسپتال منتقل کیا۔
غزہ کے طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے میں بچوں اور خواتین سمیت متعدد خاندان رہائش پذیر تھے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب غزہ میں جنگ بندی کے دعووں کے باوجود اسرائیلی فوج کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔
حالیہ ہفتوں کے دوران غزہ سٹی، جبالیہ، بیت لاہیا اور خان یونس سمیت مختلف علاقوں میں ڈرون اور فضائی حملوں میں درجنوں فلسطینی جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد بھی تقریباً روزانہ کی بنیاد پر حملے رپورٹ ہو رہے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل بمباری اور سرحدی پابندیوں کے باعث شہری آبادی شدید انسانی بحران کا شکار ہے۔
طبی ذرائع کے مطابق غزہ میں اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران شہید ہونے والے اور زخمیوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ اسپتالوں کو ادویات، ایندھن اور طبی سامان کی شدید قلت کا سامنا ہے۔