جنوبی کوریا: آن لائن شاپنگ کی لت میں مبتلا افراد کیلئے انوکھا اقدام

یہ منفرد رجحان جنوبی کوریا کے نوجوانوں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے


ویب ڈیسک June 17, 2026

جنوبی کوریا کے نوجوانوں میں ایک منفرد آن لائن رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے جسے ’ڈوپامین سائٹس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ویب سائٹس اور ایپس بظاہر عام آن لائن شاپنگ پلیٹ فارمز جیسی نظر آتی ہیں، لیکن ان میں ایک بڑا فرق ہے: یہاں خریداری تو ہوتی ہے، مگر کوئی رقم خرچ نہیں ہوتی۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق آن لائن شاپنگ کا اصل لطف اکثر خریدی گئی چیز میں نہیں بلکہ خریداری کے پورے عمل، جوش اور دماغ میں پیدا ہونے والے ’ڈوپامین‘ کے احساس میں ہوتا ہے۔ اسی تصور کو سامنے رکھتے ہوئے جنوبی کوریا میں ایسی ایپس متعارف کرائی گئی ہیں جو صارفین کو حقیقی خریداری جیسا مکمل تجربہ فراہم کرتی ہیں، مگر بغیر پیسے خرچ کیے۔

ان ڈوپامین سائٹس پر سینکڑوں مصنوعات، صارفین کے ریویوز، ریٹنگز، فلٹرز اور خصوصی آفرز موجود ہوتی ہیں۔ صارف اپنی پسند کی چیز کارٹ میں ڈال سکتا ہے، ڈیلیوری ایڈریس درج کر سکتا ہے اور ’آرڈر‘ کا بٹن بھی دبا سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آرڈر کے بعد ایپ ایک فرضی کورئیر کو آرڈر وصول کرتے ہوئے دکھاتی ہے، جس کی نقل و حرکت نقشے پر حقیقی وقت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ تاہم، آخر میں نہ کوئی پارسل پہنچتا ہے اور نہ ہی صارف کے اکاؤنٹ سے پیسے کٹتے ہیں۔

بہت سے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ حقیقی آن لائن خریداری سے حیرت انگیز حد تک مشابہ ہوتا ہے۔ اس میں انتظار، تجسس اور خوشی کا وہی احساس شامل ہوتا ہے جو کسی اصل آرڈر کے دوران محسوس کیا جاتا ہے حالانکہ صارف جانتا ہے کہ وہ حقیقت میں کچھ خرید نہیں رہا۔

مہنگائی، بڑھتے اخراجات اور ہر طرف موجود اشتہارات کے دباؤ کے درمیان جنوبی کوریا کے نوجوان اس رجحان کو پیسے بچانے کا ایک ذہین طریقہ قرار دے رہے ہیں۔

ان کے مطابق یہ ایپس انہیں خریداری کی خواہش پوری کرنے کا نفسیاتی اطمینان دیتی ہیں جبکہ غیر ضروری اخراجات سے بھی بچاتی ہیں۔

تاہم، بعض ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ یہ پلیٹ فارمز مالی بچت میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن یہ آن لائن شاپنگ سے وابستہ انہی نفسیاتی عادات کو بھی مضبوط کر سکتے ہیں جو خریداری کی لت کو جنم دیتی ہیں۔

فی الحال یہ انوکھا رجحان زیادہ تر جنوبی کوریا تک محدود ہے اور سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث سے اندازہ ہوتا ہے کہ مغربی ممالک کے صارفین ابھی تک ایسی ’فرضی خریداری‘ میں خاص دلچسپی نہیں رکھتے۔