اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت طے ہوجانے کے باوجود لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانے سے صاف انکار کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس فیصلے کا اعلان اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک سرکاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انھوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ معاہدے اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے واپس نہیں ہٹے گی۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا مزید کہنا تھا کہ جب تک اسرائیل کی سلامتی کا تقاضا ہوگا جنوبی لبنان میں قائم سکیورٹی زون برقرار رکھا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ شمالی اسرائیل کے شہروں میں امن اور خوشحالی کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی ناگزیر ہے۔
انہوں نے زور دیکر کہا کہ ہم شمالی شہروں میں سیکیورٹی اور خوشحالی بحال کریں گے اس کے لیے جنوبی لبنان میں سیکیورٹی زون برقرار رکھنا ضروری ہے اور جب تک اسرائیل کی سلامتی کا تقاضا ہوگا ہم وہاں سے نہیں جائیں گے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو ضرورت سے زیادہ جارحانہ قرار دیا تھا اور یہ محاذ شامی صدر احمد الشرح کے حوالے کرنے کی تجویز دی تھی۔
دریں اثنا ایران نے بھی امریکا کے ساتھ ہونے والے مفاہمتی معاہدے میں جنوبی لبنان سے مکمل اسرائیلی انخلا کو ایک بنیادی شرط قرار دیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ روز دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت میں بھی لبنان سمیت تمام جنگی محاذ بند کرنے کی شق شامل ہے تاہم اسرائیل اس معاہدے کا فریق نہیں ہے اور اس نے واضح کیا ہے کہ وہ خود کو اس کی شرائط کا پابند نہیں سمجھتا۔
ادھر خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو کے قریبی ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے بتایا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی تعیناتی برقرار رکھنے کے معاملے پر امریکا کے ساتھ سخت اور مسلسل مذاکرات کر رہا ہے۔
دریں اثنا اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنے سکیورٹی زون کا نیا نقشہ بھی جاری کیا ہے کہ جس میں واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ مرحلے پر اسرائیلی افواج اس علاقے سے انخلا نہیں کریں گی۔
اسرائیلی مؤقف کے برعکس ایران کا کہنا ہے کہ لبنان میں مستقل جنگ بندی اسی صورت ممکن ہوگی جب اسرائیلی فوج مکمل طور پر جنوبی لبنان سے واپس چلی جائے، جس کے باعث امریکا۔ایران معاہدے کے باوجود اس معاملے پر اختلافات برقرار ہیں۔
واضح رہے کہ آج بھی لبنان میں حزب اللہ کے زیرزمین بچھائے گئے بارودی سرنگ دھماکے میں اسرائیلی فوج کا ایک اہلکار ہلاک اور 7 زخمی ہوگئے اور اسرائیل نے بھی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔