بدھ کے روز امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں لبنان سے متعلق ایک اہم شق بھی شامل ہے جو اس دستاویز کی سب سے اہم نکتہ ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس معاہدے کے 14 نکات منظرعام پر آگئے ہیں جس پر امریکا اور ایران سمیت ثالث نے دستخط کردیے ہیں اور یہ نافذالعمل ہوچکا ہے۔
دنیا بھر میں اور بالخصوص مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے ضامن اس اہم اور تاریخی معاہدے کے نکات درج ذیل ہیں۔
1- تمام محاذوں پر، بشمول لبنان، فوجی کارروائیوں کا فوری اور مستقل خاتمہ کیا جائے گا۔
2- امریکا اور ایران ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں گے۔
3- دونوں ممالک زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر حتمی معاہدے پر مذاکرات مکمل کرنے کے پابند ہوں گے، تاہم باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔
4- امریکا فوری طور پر ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا عمل شروع کرے گا اور 30 دن کے اندر اسے مکمل طور پر ختم کر دے گا۔
5- آبنائے ہرمز میں ایران اپنی بھرپور کوششوں کے ذریعے 60 دن تک تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلا معاوضہ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے انتظامات کرے گا۔
6- امریکا اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب امریکی ڈالر کے منصوبے پر کام کرے گا۔
7- امریکا ایران پر عائد ہر قسم کی پابندیاں ختم کرے گا۔
8- ایران نے دوبارہ اس بات کی توثیق کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل یا تیار نہیں کرے گا، جبکہ جوہری پروگرام کے دیگر پہلوؤں پر آئندہ مذاکرات ہوں گے۔ دونوں فریق ایران کی یورینیم افزودگی اور دیگر جوہری ضروریات سے متعلق امور پر بھی بات چیت کریں گے۔
9- حتمی معاہدے تک امریکا اور ایران موجودہ صورتحال (اسٹیٹس کو) برقرار رکھنے پر متفق ہیں۔
10- معاہدے پر دستخط کے بعد اور پابندیوں کے مکمل خاتمے تک امریکی محکمہ خزانہ ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور ان سے متعلق تمام خدمات کی برآمد کے لیے خصوصی اجازت نامے (ویورز) جاری کرے گا۔
11- امریکا ایران کے منجمد یا محدود مالی وسائل اور اثاثوں کو مکمل طور پر استعمال کے لیے دستیاب بنانے کا پابند ہوگا۔
12- اس مفاہمتی یادداشت پر مؤثر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ انتظامی نظام قائم کیا جائے گا۔
13- معاہدے پر دستخط کے بعد، اور شق نمبر 1، 4، 5، 10 اور 11 پر عمل درآمد سے مشروط ہو کر، دونوں ممالک حتمی معاہدے کے دیگر نکات پر خصوصی مذاکرات کا آغاز کریں گے۔
14- حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔