امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے ایرانی پاسداران انقلاب کے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آج 50 سے زائد تجارتی جہاز بحفاظت گزرے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان مین کہا گیا ہے کہ امریکی افواج علاقے میں موجود ہیں اور بین الاقوامی بحری راستوں پر آزادانہ اور محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے چوکنا ہیں۔
بیان میں ایران کے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی اہمیت کی اس بحری گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ 20 جون کو آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی طور پر 55 تجارتی جہاز بحفاظت گزرے اور ایک کروڑ 70 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل اور دیگر تجارتی سامان عالمی منڈیوں تک پہنچایا گیا۔
سینٹکام نے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر کی تازہ ایڈوائزری کا بھی حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ جہاز ایک مخصوص بین الاقوامی بحری راستے کے ذریعے محفوظ طریقے سے سفر کر رہے ہیں اور اس راستے پر کسی قسم کی غیر قانونی پابندی یا رکاوٹ موجود نہیں۔
یاد رہے کہ امریکی فوج کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر اور پاسدارانِ انقلاب بحریہ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا کی جانب سے جنگ بندی اور مفاہمتی معاہدے کی خلاف ورزی اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو تمام بحری آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
دونوں ممالک کے متضاد دعوؤں نے آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی ہے۔