سہارنپور سے تعلق رکھنے والے ظل حسنین نقوی اور عالمی ادب کے مترجم کے حوالے سے معروف ادیب وصحافی ’’ظ انصاری‘‘ نے ادبی دنیا میںبڑا نام پیدا کیا ہے،ہمارے ترقی پسند اور کلاسیکی ادب میں کہ آج بھی’’ ظ انصاری’’ کم از کم برصغیر کی سطح پر سب سے زیادہ کتب کے مترجم کے طور پر اہل ادب میں نہ صرف سرخرو ہیں بلکہ ترجمے کی دنیا کا معتبر حوالہ ہیں۔
کمیونسٹ فکر سے جڑنے کے بعد ظ انصاری نے صحافت میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ سبط حسن کے ساتھ کام کیا،ظ انصاری نے ترقی پسند ادب کے فروغ کے لیے صحافتی و ادبی میدان میں جب گراں قدرخدمات انجام دیں۔
ظ انصاری کو گرفتار کیا گیا اور کچھ عرصے بعدان کی رہائی حکومت نے کردی،اس رہائی کو مصلحت پسندی جان کر کمیونسٹ پارٹی طویل عرصہ ظ انصاری سے ناراض رہی،مگر ظ انصاری نے خود کو صحافت اور ادب سے جوڑے رکھااور کبھی کمیونسٹ نظریے یا پارٹی کی مخالفت نہیں کی، بلکہ ظ انصاری نے اپنی عملی زندگی کا بیشتر حصہ ماسکو میں گزارا اور اسی دوران ظ انصاری نے روسی زبان پر نہ صرف عبور حاصل کیا بلکہ روس سے روسی زبان و لسانیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ جیسے ہی ہم نے کمیونسٹ نکتہ نظر میں آنکھ کھولی تو اس زمانے میں روسی ادب اور فکری و نظریاتی مضامین روسی زبان سے انگریزی میں ترجمہ ہوا کرتے تھے جو ہم ایسے طلبا کے لیے سمجھنے میں مشکل کا سبب بنتے تھے،اس زمانے میں روسی ادب اور کمیونسٹ لٹریچر کو اردو زبان میں منتقل کرنے والے ’’ظ انصاری‘‘ہم سب نوجوانوں کے لیڈر ہوا کرتے تھے۔
ماسکو کے اشاعتی مرکز سے روسی ادب و کمیونسٹ فکر کی کتب اکثر ظ انصاری کی ترجمہ کی ہوئی ہوتی تھیں،ہمیں نہیں یاد کہ ظ انصاری نے کبھی ان ترجموں پر کوئی کروفر کیا ہو ،ترجمے کو شہرت پانے کا ذریعہ بنایا ہو یا کسی صلے کی تمنا کی ہو،ظ انصاری ایک فکر اور روسی ادب سے روشناس کروانے والی وہ شخصیت تھے جن کا دیکھے اور سنے بغیر برصغیرکے تمام افراد احترام کیا کرتے تھے۔
تراجم کی دنیا میں ظ انصاری نے جہاں اردو ادب کو معروف روسی ناول نگار چیخوف،دوستو وسکی اور پشکن ایسے ادبا کی دبیز ناولوں سے روشناس کروایا بلکہ ظ انصاری نے اردو ادب اور کلاسیکی شاعری کی روایت پر بھی گراں قدر کام کیا۔
ظ انصاری نے نہ صرف روسی ادب کے شاہکار ناول نگاروں کو اردو ادب کی دنیا سے روشناس کروایا بلکہ انھوں نے فارسی پر دسترس ہونے کی بنیاد پر مرزا غالب کی فارسی مثنویوں کا منظوم ترجمہ کیا اور امیر خسرو کی مثنویات بھی مرتب کیں،ظ انصاری کے معرکتہ الارا کاموں میں غالب و خسرو کے روسی زبان میں مجموعے مرتب کرنا ایک اہم کام کے طور پر کلاسیکی ادب کا سرمایہ ہے،ظ انصاری کی تصانیف میں ’’مثنوی کا سفر نامہ‘‘کانٹوں کی زبان،کہی ان کہی،کتاب شناسی،اقبال کی تلاش،غالب شناسی،کمیونزم اور مذہب،ورق ورق اور زبان و بیان ایسی اہم کتب شامل ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ظ انصاری کے تراجم اور ان کی روسی ادب اور اردو ادب میں گراں قدر خدمات کو کس وجہ سے زیر بحث لایا گیا ہے یا ظ انصاری ایسے عالمی سطح کے ترجمہ کرنے والے بے ٖغرض و غایت مختلف ادب کی خدمات کا ذکر کیوں جا رہا ہے،کیوں ایک نسل ظ انصاری کی کتب کے تراجم کی منتظر رہتی تھی؟اس تمہید کی بنیادی وجہ ہماری موجودہ نسل میں ترجمہ نگاروں کے وہ ذاتی و نجی مسائل ہیں جن کی وجہ سے ادب و ترجمہ کی افادیت پیچھے چلی گئی ہے۔
جب کہ یہ ترجمہ نگار آپسی شخصی تنازعات کا وہ کٹھ بندھن بن چکے ہیں جس نے ترجمے اور ادبی شاہکار کو دریدہ کرنے میں کوئی کسر چھوڑی نہیں ہے،کسی بھی دوسری زبان کے شاہکار ناول یا شاعری کے تراجم پوری دنیا میں ہوتے رہے ہیں ہو رہے ہیں اور شاید ہوتے بھی رہیں،مگر اس کاوش یا کوشش میں ترجمہ نگار یا صاحب ادب حضرات آپسی شخصی اختلاف نئی نسل کے سامنے لائیں گے تو سوال یہ ہے کہ وہ نسل کی کیا تربیت کر رہے ہیں۔
یا کہ کیا آیا وہ آپسی اختلافات میں ادب کی تہذیب و شائستگی کی قدرکو زندہ درگور تو نہیں کر رہے؟ یہ وہ تکلیف دہ لمحہ ہے جب ہم بحیثیت مجموعی سماجی خانوں میں بٹے ہوئے ہیں جب کہ بکھرے ہوئے سماج کو جوڑنے اور سماج کی قدر و منزلت و شائستہ روایتوں کی ترویج کے لیے ادبی دانش ہی وہ آخری مورچہ ہوتا ہے جہاں سے تتر بتر سماج یا آپسی فروعی اختلافات کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
تو کیا ہم آج ایک صحت مند اور دانش مند سماج کی بنیاد کے داعی کہلوا سکتے ہیں؟ ہاں اس درمیان یہ تو ہو سکتا ہے کہ ادبی دانش کے افراد اپنی الگ منڈلیاں بنا لیں اور ایک دوسرے کے ’’حاجی بگوم‘‘ بن جائیں مگر کیا اس عمل سے دانش کے وہ سوتے پھوٹیں گے جو سماج کی جڑت اور تہذیب کا رخ مثبت کر سکیں؟
میں ذاتی طور پر انور سن رائے اور اجمل کمال کی نظریاتی سوچ و فکر سے اتفاق نہیں رکھتا مگر علم کے ایک طالب کی حیثیت سے یہ میرا فرض ہے کہ میں ان دونوں احباب کا احترام کروں اور ان سے اختلاف بھی کروں،مگر میرا یہ اختلاف استدلال اور فکر کی بنیاد پر اس سوچ کے ساتھ ہونا چاہیے کہ میں اپنے سامنے والے سے کچھ سیکھ سکوں،میری کوشش رہی کہ اگر کسی بات میں میرے شدید ترین مخالف کا استدلال قوی اور مستحکم ہے تو میں اس سے نہ صرف سیکھوں بلکہ اپنی کم علمی کی وجہ سے اس کا مضبوط و توانا استدلال کو قبول کروں۔
انور سن رائے کا تازہ ترجمہ جیمز جوائس کا ناول ’’یولیسس’’آج کل سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے جس پر مختلف رائے زنی ہو بھی رہی ہے اور ہوتی بھی رہے گی،مگر کتاب یا اس کے ترجمے کو ماپنے کا یہ پیمانہ قطعی درست نہیں کہ اسے پڑھے بغیر سوشل میڈیا کی معلومات کے سبب اس پر بے لاگ تبصرہ کیا جائے۔
تراجم کمزور ہو سکتے ہیں،تراجم میں املے یا زبان کی خامیاں ہو سکتی ہیں،ترجمہ ہونے والی کتاب سے فکری اختلاف ہو سکتا ہے،مگر یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب پڑھنے والا سنجیدگی سے ترجمہ کی ہوئی کتاب کا مطالعہ کرے،یوں تو جیمز جوائس کی اس ناول کے 50 کے قریب دنیا کی مختلف زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں،انور سن نے اس شاہکار ناول کا ترجمہ کس پائے کا کیا ہے مجھے نہیں معلوم، مگر میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ انور سن رائے کو ’’یولیسس’’کے ترجمے کی بابت کسی بھی سطح کی آرا پہ سوشل میدیا پر آوازے کسنا جھجتا نہیں۔
نہ ہی اجمل کمال ایسے سنجیدہ ترجمہ نگار کو سوشل میڈیا پر ترکی بہ ترکی جواب زیب دیتا ہے،سوشل میڈیا پر فیکا سے لے کر اجمل کمال تک کے اختلاف کو سوشل میڈیا کی زینت بنانے سے کم از کم انور سن رائے ایسے محترم کو دور رہنا چاہیے ، وگرنہ دوسرے کی پٹاری جب کھلتی ہے تو ادب و فنون کا بھدہی اڑتا ہے،ادب کی شائستگی کا تقاضہ ہے کہ آپس میں تنقیدی نشست کریں کھل کر بے خوف تبصرہ،پسند نا پسند کا اظہار کریں مگر کم از کم سوشل میڈیا پر ایسی کاٹھ کے دوستوں کے تبصرے نہ جچتے ہیں اور نہ ہی ان کی قامت بڑھتی ہے،تراجم نگار مرزا قلیچ بیگ بنیں، ظ انصاری بنیں تاکہ آیندہ کی نسل میں سرخرو ئی پاسکیں۔