اسکاٹ لینڈ میں انگریز نسل پرستوں کے مسجد کے قریب حملے، پانچ افراد زخمی، مسلمانوں میں خوف و ہراس

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ایک شخص کو مبینہ طور پر بڑے ہتھیار کے ساتھ شہر کی سڑکوں پر گھومتے دیکھا گیا


ویب ڈیسک June 21, 2026

اسکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے مبینہ واقعات کے بعد پولیس نے انسدادِ دہشت گردی یونٹ کو تحقیقات میں شامل کر لیا ہے۔ ان حملوں میں پانچ افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس اسکاٹ لینڈ کے مطابق جمعہ کی رات مختلف مقامات سے متعدد ہنگامی کالز موصول ہوئیں جن میں تشدد، دھمکیوں، ڈکیتی اور توڑ پھوڑ کے واقعات کی اطلاع دی گئی۔ ان واقعات میں پانچ افراد زخمی ہوئے جن کی عمریں 22 سے 39 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔

پولیس کے مطابق زخمی ہونے والوں میں سے تین افراد کو اسپتال منتقل کرنا پڑا، تاہم کسی کی حالت تشویشناک نہیں ہے۔ حکام نے 36 سالہ ایک سفید فام اسکاٹش شہری کو گرفتار کر لیا ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی واقعات ایڈنبرا کے علاقے سائتھل میں ایک مسجد کے قریب پیش آئے، جہاں دو افراد پر حملہ کیا گیا۔ بعد ازاں شہر کے دیگر علاقوں میں مزید تین افراد کو نشانہ بنایا گیا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ایک شخص کو مبینہ طور پر بڑے ہتھیار کے ساتھ شہر کی سڑکوں پر گھومتے دیکھا گیا۔ بعض مسلم تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ گرفتار شخص مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگا رہا تھا۔

اسکاٹش ایسوسی ایشن آف مساجد اور اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرنے والی تنظیم "مینڈ" نے کہا ہے کہ متاثرین میں کئی مسلمان شامل ہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات کو اسلاموفوبیا اور انتہا پسند دائیں بازو کی دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جائے۔

اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر جان سوئنی نے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تشدد، نسل پرستی اور مذہبی نفرت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

پولیس کی اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل کیٹریونا پیٹن نے ان واقعات کو "انتہائی افسوسناک اور چونکا دینے والا" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسکاٹ لینڈ میں نسل پرستی اور مذہبی بنیادوں پر نفرت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب برطانیہ میں امیگریشن، نسلی تنوع اور مذہبی ہم آہنگی کے موضوعات پر سیاسی اور سماجی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں برطانیہ کے مختلف شہروں میں بھی ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جنہوں نے سیکیورٹی اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔