ایرانی وفد کا ٹرمپ کی تازہ دھمکی پر احتجاج، مذاکرات کے مقام سے روانہ

ایرانی وفد نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ حملوں کی دھمکی پر امریکی وفد سے براہ راست احتجاج کیا، رپورٹ


ویب ڈیسک June 20, 2026
فوٹو: پریس ٹی وی

ایرانی وفد نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے کی براہ راست دھمکی پر احتجاج کیا اور مذاکرات کے مقام سے روانہ ہوگئے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ حملوں کی دھمکی پر امریکی وفد سے براہ راست احتجاج کیا اور اب اگلے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔

پریس ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ ذرائع نے بتایا کہ ایرانی وفد نے امریکی عہدیداروں کے سامنے اعتراض کیا اور اس وقت ٹرمپ کی زبانی دھمکی کا مناسب جواب دینے کے لیے صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

رپورٹ میں ایرانی نیم سرکاری خبرایجنسی کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایرانی وفد ٹرمپ کی تازہ دھمکی پر احتجاجاً امریکی وفد سے مذاکرات کے مقام سے دور چلا گیا ہے۔

باقر قالیباف نے ٹرمپ کی دھمکی مسترد کردی

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے ایکس پر جاری بیان میں ٹرمپ کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ‘کیا وہ نہیں سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی دھمکیوں کا کوئی اثر ہوتا تو وہ آج اس بےچینی کی کیفیت تک نہیں پہنچ چکے ہوتے’۔

انہوں نے کہا کہ ایران امریکا کی دھمکی کو شمار ہی نہیں کرتا اور امریکی عہدیداروں کو خبردار کیا کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اس کا دوسرے طریقے سے جواب دینے کے لیے ایرانی مسلح افواج تیار بیٹھی ہیں۔

باقر قالیباف نے کہا کہ وہ کچھ بھی کہتے رہیں کارروائی ہم ہی کرتے ہیں۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی کا نام لیے بغیر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ لبنان میں بھاری معاوضوں والی پراکسیز کو حالات خراب کرنے سے روکے، اگر ایسا نہیں کیا تو حملے دوبارہ شروع کریں گے۔

ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ ایران نے پراکسیز نہیں روکا تو پہلے سے بھی زیادہ شدت سے حملے کریں گے۔

امریکی صدر کی جانب سے ایران کو یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی جب دونوں ممالک کے وفود سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک ریزورٹ میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے اہم مذاکرات میں مصروف ہیں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے 14 نکات پرعمل درآمد کے لیے تیکنیکی راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت پر امریکا اور ایران نے چند روز قبل دستخط کیے تھے، جس پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بطور ثالث دستخط کیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی دھمکی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا کے وعدوں کی براہ راست خلاف ورزی ہے، جس کی پہلی شق کے تحت دونوں فریق اس بات کے پابند ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف کسی جنگ یا فوجی کارروائی کا آغاز نہیں کریں گے اور ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کریں گے۔