پنجاب کاٹن بیلٹ میں کپاس کی کاشت میں ریکارڈ کمی

رواں سال مجموعی طور پر صرف 26 لاکھ 14 ہزار ایکڑ رقبے پر کپاس کاشت


احتشام مفتی June 21, 2026

کراچی:

رواں سال پنجاب کاٹن بیلٹ میں کپاس کی کاشت میں ریکارڈ کمی توقع سے زائد روئی درآمد ہونے کے خدشات اور وفاقی بجٹ میں کاٹن سیڈ اور آئل کیک پر ترمیم کے ذریعے سیلز ٹیکس ختم کرنے کی سفارش پر عمل درآمد کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایاکہ حکومت پنجاب نے کاٹن ایئر 2026-27 کیلیے پنجاب کاٹن بیلٹ میں32لاکھ ایکڑرقبے پرکپاس کاشت کرنے کاہدف مقررکیا تھا، لیکن کراپ رپورٹنگ سروسزکے مطابق پنجاب میں رواں سال مجموعی طور پر صرف 26لاکھ 14ہزار ایکڑ رقبے پرکپاس کاشت ہوئی ہے جو مقررہ ہدف کی نسبت 5لاکھ 86ہزار ایکڑ یا 18فیصدکم رہی ہے۔

اعداد وشمارکے مطابق شمالی پنجاب کی چار ڈویژنزسرگودھا، لاہور، فیصل آباد اور ساہیوال میں 3لاکھ 5ہزار ایکڑکے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 2لاکھ 5ہزار ایکڑرقبے پرکپاس کاشت ہوئی ہے، جبکہ جنوبی پنجاب کے تین ڈویژنز بہاول پور، ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں 28لاکھ 95ہزار ایکڑکے ہدف کی نسبت صرف 24لاکھ 9ہزار ایکڑرقبے پر کپاس کی کاشت ہوسکی ہے۔

انہوں نے بتایاکہ سخت موسمی حالات اور رحیم یار خان سے ملحقہ پنجاب سندھ بارڈر پرنئی شوگر ملزکے قیام کے باعث کپاس کی کاشت میں ریکارڈکمی واقع ہوئی ہے، جس سے خدشہ ہے کہ رواں سال پاکستان کوروئی کی درآمدات ابتدائی تخمینوں کے مقابلے میں زیادہ ہوں گی، جبکہ کپاس کے ساتھ کاٹن سیڈ آئل کی پیداوار بھی کم ہونے سے پاکستان کو روئی کے ساتھ اربوں ڈالرمالیت کاخوردنی تیل بھی درآمدکرنا پڑے گا۔