قوالی کو جدت کا رنگ دینے والے امجد صابری کی آج دسویں برسی منائی جارہی ہے

امجد صابری 22 جون 2016 کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے تھے


ویب ڈیسک June 22, 2026

آج برصغیر کے عظیم قوال، نعت خواں اور صوفی موسیقی کے درخشاں ستارے امجد صابری کی دسویں برسی منائی جا رہی ہے۔ 

امجد صابری نے اپنی مسحور کن آواز، روح پرور قوالیوں اور عشقِ رسولؐ سے بھرپور کلام کے ذریعے دنیا بھر میں لاکھوں دلوں کو متاثر کیا۔ وہ 23 دسمبر 1976 کو کراچی میں پیدا ہوئے اور صابری برادران کے معروف گھرانے کی عظیم روایت کو آگے بڑھایا۔

امجد صابری، معروف قوال غلام فرید صابری کے صاحبزادے اور مقبول احمد صابری کے بھتیجے تھے۔ انہوں نے ’’بھر دو جھولی میری‘‘، ’’تاجدارِ حرم‘‘، ’’یا محمد نورِ مجسم‘‘، ’’طیبہ کے جانے والے‘‘ اور متعدد لازوال قوالیوں کو نئی نسل تک پہنچایا۔ ان کی آواز صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں صوفی موسیقی کی پہچان بن گئی۔

22 جون 2016 کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے وہ شہید ہوگئے۔ اس سانحے نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی موسیقی حلقوں کو بھی سوگوار کردیا تھا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جبکہ آج بھی ان کی قوالیاں عقیدت اور محبت سے سنی جاتی ہیں۔

امجد صابری کی زندگی کا ایک یادگار پہلو، ان کا آخری ٹی وی کلام بھی تھا، جس میں انہوں نے ’’اے سبز گنبد والے، منظور دعا کرنا‘‘ پڑھ کر حاضرین کو آبدیدہ کر دیا تھا۔ ان کی وفات کے بعد بھی ان کی آواز، فن اور روحانی ورثہ زندہ ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنا ہوا ہے۔