لاہور:
ماڈل ٹاؤن میں 17 سالہ گھریلو ملازمہ عائشہ سے مبینہ اجتماعی زیادتی، اسقاط حمل اور ہلاکت کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پولیس کو موصول ہونے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں عائشہ کی موت کی وجہ غیر معیاری اسقاط حمل کو قرار دیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسقاط حمل کے عمل کے دوران اور بعد میں متعدد طبی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں، جو بعد ازاں متاثرہ لڑکی کی موت کا سبب بنیں۔
رپورٹ کے مطابق اسقاط حمل کے بعد لگائے گئے ٹانکوں سے پیپ بہہ رہی تھی، جس سے طبی پیچیدگیوں کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اسقاط حمل کے غیر معیاری طریقہ کار کے باعث پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو موت کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق 17 سالہ گھریلو ملازمہ عائشہ کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ اس کا اسقاط حمل رائیونڈ روڈ پر واقع ایک نجی کلینک میں کرایا گیا۔
پولیس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔