برن: ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے سوئٹزرلینڈ میں تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات میں مختلف شعبوں کے ماہرین اور متعلقہ حکام شرکت کر رہے ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے فریم ورک کو عملی شکل دی جا سکے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت سینئر سفارتکار کاظم غریب آبادی کر رہے ہیں جو مذاکرات میں ایران کے مؤقف اور تکنیکی امور کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی وفد میں سیاسی، اقتصادی، قانونی اور سفارتی ماہرین بھی شامل ہیں، جو مختلف نکات پر تفصیلی تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ مذاکرات میں خاص طور پر اقتصادی پابندیوں، منجمد اثاثوں، تیل کی برآمدات، جوہری معاملات اور معاہدے کے عملی نفاذ سے متعلق امور زیر غور آنے کا امکان ہے۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان اور قطر کے نمائندے بھی شریک ہیں۔ دونوں ممالک معاہدے کے نفاذ اور فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
سفارتی حلقوں کے مطابق یہ تکنیکی مذاکرات مستقبل میں اعلیٰ سطح کے سیاسی فیصلوں کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فریقین ان مذاکرات میں پیش رفت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
مبصرین کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے یہ مذاکرات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے نتائج نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات بلکہ خطے کی سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔