سولر پینلز کی قیمتوں میں کتنے ہزار کی کمی آئی؟ نرخ سامنے آگئے

مقامی تاجروں نے ذخیرہ اندوزی کرکے سولر پینلز کی قیمتوں میں اندھا دھند اضافے کا رحجان پیدا کردیا تھا


احتشام مفتی June 22, 2026

کراچی:

بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور بڑھتے بلوں سے پریشان عوام کے لیے اچھی خبر آگئی، مقامی مارکیٹ میں 585 کلو واٹ، 645 کلو واٹ، 620 کلو واٹ اور 725 کلو واٹ کے حامل سولر پینلز کی قیمتوں میں 16فیصد کی کمی آگئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق مالی سال کے وفاقی بجٹ کے اعلان سے قبل سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کی شرح 10فیصد سے بڑھاکر 18فیصد کیے جانے کی افواہوں سے مقامی تاجروں نے ذخیرہ اندوزی کرکے سولر پینلز کی قیمتوں میں اندھا دھند اضافے کا رحجان پیدا کردیا تھا مگر بجٹ میں ایسا کچھ نہیں ہوا کہ جس سے سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافے کا جواز بن سکے لہذا وفاقی بجٹ کے اعلان کے ساتھ ہی مقامی مارکیٹوں میں سولر پینلز کی قیمتوں میں 5ہزار سے 6ہزار روپے کی واقع ہوگئی۔

نتیجے میں 585 کلو واٹ کے فی سولر پینل کی قیمت 30ہزار روپے سے گھٹ کر 25ہزار روپے، 645کلو واٹ کے پینل کی قیمت 35ہزار روپے سے گھٹ کر 29ہزار 400 روپے، 620کلو واٹ پینل کی قیمت 32 ہزار روپے سے گھٹ کر 26ہزار روپے اور 725کلو واٹ کے حامل سولر پینل کی قیمت 36ہزار روپے سے گھٹ کر 30ہزار روپے کی سطح پر آگئی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ قبل از بجٹ سولر سسٹم کے اہم کمپوننٹ ’’انورٹرز‘‘ کی مصنوعی قلت پیدا کرکے اس کی قیمتوں میں بھی بلاجواز اضافہ کیا گیا تاہم بعد از بجٹ سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے منافع خور تاجروں کی جانب سے انورٹرز کی قیمتوں میں بھی 50ہزار سے 70ہزار روپے کی کمی کردی گئی لیکن مقامی مارکیٹ میں لیتھئیم بیٹریوں کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کے سبب ان کی قیمتوں میں کمی کے بجائے اضافے کا رحجان غالب ہے۔

حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کی حوصلہ شکنی کے باعث صارفین نے آف گرڈ سولر سسٹم لگانے کو ترجیح دے رہے جس میں لیتھیم بیٹریوں کا استعمال بڑھ گیا ہے کیونکہ صارفین لیتھئیم بیٹریوں کے ذریعے لوڈشیڈنگ کے دورانیئے یا پھر بیک اپ رکھ کر اپنی گھریلو ضروریات پوری کررہے ہیں۔

سولر سسٹم کے ایک بڑے ڈسٹری بیوٹر سعود فاروق نے ایکسپریس کے استفسار پر بتایا کہ عوام بجٹ کے بعد قیمتوں میں کمی پر اطمینان کا اظہار کررہی ہے۔ موجودہ صورتحال میں سولر سسٹم لگوانے کا یہ مناسب وقت ہے کیونکہ سولر پینل متبادل توانائی کا سب سے بڑا، سستا اور اہم ذریعہ ہے۔ سولر پینلز پر اگر سیلز ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے، تو اس سے نہ صرف عام آدمی کو ریلیف مل سکتا ہے بلکہ چین جیسے دوست ممالک سے براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع بھی خاطر خواہ بڑھائے جاسکتے ہیں۔