ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خواتین اکثر اچھی اور مناسب نیند لینے کے باوجود اپنی نیند کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ خراب قرار دیتی ہیں۔
جرنل سلِیپ ایڈوانسز میں شائع ہونے والے مطالعے میں محققین نے تقریباً 500 افراد کے نیند کے دوران دماغی سرگرمی، سانس لینے کے عمل اور جسمانی حرکات کا جائزہ لیا، جس کے بعد شرکا سے ان کی رات کی نیند کے معیار سے متعلق رائے لی گئی۔
نیند کی اصل پیمائش کے مطابق خواتین کئی بار مردوں سے بہتر نیند لے رہی تھیں لیکن پھر بھی وہ اپنی نیند کو کم معیاری سمجھتی تھیں۔
سویڈن کے کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر ڈاکٹر ٹوربجورن آکرشٹڈ کے مطابق یہ ایک دلچسپ تضاد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر مرد رات کے دوران ہونے والی مختصر بیداریوں کو خواتین کی نسبت کم محسوس کرتے یا یاد رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنی نیند کے بارے میں زیادہ مثبت رائے رکھتے ہیں۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ خواتین رات کے دوران کتنی بار جاگیں، اس کا اندازہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ درست لگا سکیں۔ دوسری جانب مرد اکثر اپنی رات کی مختصر بیداریوں کی تعداد کم سمجھتے رہے۔
محققین کے مطابق مردوں میں جاگنے کے دورانیے عموماً کم تھے اور جو مرد چند لمحوں کے لیے جاگتے تھے وہ بھی اپنی نیند کو بہتر قرار دیتے تھے۔ جبکہ خواتین نے مختصر بیداریوں کے باوجود اپنی نیند کو زیادہ خراب محسوس کیا۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ مردوں اور خواتین کی نیند کے تجربات میں فرق مزید نمایاں ہونے لگتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند صرف اس بات پر منحصر نہیں کہ انسان کتنی دیر سویا، بلکہ اس بات پر بھی اثر انداز ہوتی ہے کہ دماغ رات کے دوران ہونے والی چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کو کس طرح محسوس اور یاد رکھتا ہے۔