آنکھ کے اندر پھنسی لکڑی ڈیڑھ برس بعد نکال لی گئی

ڈاکٹروں نے ایم آر آئی کے بعد آنکھ میں پھنسی لکڑی کا پتہ لگایا


ویب ڈیسک June 22, 2026

روس میں ایک شخص کی آنکھ میں لکڑی کا ٹکڑا تین ماہ تک موجود رہا، لیکن اسے معلوم ہی نہ ہو سکا۔

50 سالہ یوری (جو رِلسک نامی چھوٹے قصبے کا رہائشی ہے) 2024 میں اپنے باغ میں میپل کے درخت کی شاخیں کاٹ رہا تھا کہ اچانک اسے بائیں آنکھ میں شدید درد محسوس ہوا۔ اس نے حفاظتی چشمہ نہیں پہنا ہوا تھا، اس لیے اسے اندازہ ہوا کہ شاید لکڑی کا کوئی ٹکڑا آنکھ سے ٹکرایا ہے۔

کچھ دیر بعد درد کم ہو گیا تو یوری نے اسے معمولی چوٹ سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ وقت گزرتا گیا، مگر بائیں آنکھ میں کبھی کبھار درد اور بے آرامی محسوس ہوتی رہی۔ اس نے کئی ماہرِ چشم ڈاکٹروں سے علاج بھی کروایا، لیکن نہ صرف علاج فائدہ مند ثابت ہوا بلکہ ڈاکٹر بھی تکلیف کی اصل وجہ معلوم نہ کر سکے۔

تقریباً تین ماہ قبل اس کی حالت مزید خراب ہوگئی، درد ناقابلِ برداشت ہونے لگا اور بائیں آنکھ کی بینائی بھی متاثر ہونے لگی۔ گزشتہ ماہ یوری دھندلی نظر کے ساتھ کرسک ریجنل اسپتال پہنچا، جہاں ڈاکٹروں نے ایم آر آئی کیا۔

اسکین میں حیران کن انکشاف ہوا کہ ایک لمبا سا لکڑی کا ٹکڑا اس کی آنکھ کے ساکٹ سے ہوتا ہوا کھوپڑی کے اندر تک پہنچ چکا تھا۔

ڈاکٹروں کے مطابق سی ٹی اسکین سے معلوم ہوا کہ یہ دراصل لکڑی کی ایک شاخ تھی، جو آنکھ کے راستے اندر داخل ہو کر سائنَس کو نقصان پہنچا چکی تھی اور کھوپڑی کی بنیاد تک پہنچ گئی تھی، جہاں دماغ کے اہم حصے موجود تھے۔

یوری کو جب حقیقت معلوم ہوئی تو اسے باغ میں لکڑی کاٹنے والا واقعہ یاد آیا۔ خوش قسمتی سے ڈاکٹروں نے بغیر کسی بیرونی چیرا لگائے ناک کے راستے 12 سینٹی میٹر لمبی لکڑی نکال دی۔

آپریشن کامیاب رہا اور یوری کی بینائی محفوظ رہی۔ وہ ابھی ادویات استعمال کر رہا ہے، تاہم ڈاکٹروں کے مطابق اس کے مکمل صحت یاب ہونے کی امید ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسے واقعات انتہائی نایاب ہوتے ہیں، لیکن یہ پہلا موقع نہیں جب کسی شخص کے جسم میں کوئی بیرونی چیز طویل عرصے تک موجود رہی ہو۔