امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھی گئی ہے جبکہ سرمایہ کاروں کی توجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کی بحالی پر مرکوز ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پیر کے روز برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 1.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد برینٹ کروڈ 76.81 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 1.2 فیصد کمی کے بعد 72.99 ڈالر فی بیرل تک گر گئی۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات کے بعد آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت بتدریج بحال ہو رہی ہے جس سے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کم ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی این جی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں مسلسل اضافے نے مارکیٹ پر دباؤ بڑھایا ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار ہے۔
حالیہ مذاکرات کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔ سرمایہ کار اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا دونوں ممالک کسی حتمی معاہدے تک پہنچتے ہیں یا نہیں، کیونکہ اس کا براہِ راست اثر عالمی توانائی منڈیوں پر پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی مکمل طور پر معمول پر آجاتی ہے تو آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے، تاہم خطے کی مجموعی صورتحال اب بھی حساس اور غیر یقینی ہے۔