بھارت میں پیپر لیک اور وزیراعظم نریندر مودی کی نااہلی کے باعث سخت ویزا پالیسی کی وجہ سے بیرون ملک بھارتی طلبہ کا مستقبل تاریک ہوگیا ہے۔
بھارت کی کمزور کرنسی، سخت ویزا شرائط اور امیگریشن کیخلاف کریک ڈاؤن نے دنیا بھر میں بھارتی طلبہ کا مستقبل تباہ کر دیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق 2سال میں برطانیہ اور امریکا جانے والے بھارتی طلبہ کی تعداد میں 20 فیصد کمی ہوئی ہے اور آئندہ مزید 15 فیصد کمی متوقع ہے۔
واضح رہے کہ امریکی تحقیقی ادارے کی ڈائریکٹر بھارتی سیاستدانوں کی سرپرستی میں جعلی ڈگریوں اور رشوت خوری کے باعث سخت ویزا پالیسی کی نشاندہی کر چکی ہیں ۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق برطانیہ میں 76 فیصد یونیورسٹیوں نے جنوری کے داخلوں میں بھارتی طلبہ کی تعداد میں کمی کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی روپے کی قدر میں تیزی سے کمی نے بیرونِ ملک زیرِ تعلیم بھارتی طلبہ کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔
2019 کے بعد سے بھارتی روپیہ بڑے تعلیمی ممالک کی کرنسیوں کے مقابلے میں 35 سے 47 فیصد تک قدر کھو چکا ہے۔ گلوبل اسٹوڈنٹ فلوز رپورٹ 2026 کے مطابق امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں بھارتی طلبہ کے داخلوں میں2030 تک اوسطاً سالانہ 0.5 فیصد کمی متوقع ہے۔
بھارتی ماہرِ معاشیات رتھن رائے کے مطابق بھارت میں مینوفیکچرنگ کی تباہی اور کمزور معیشت کا بوجھ بھارتی نوجوان نسل کے مستقبل کو نگل رہا ہے۔ مودی کے زیر اقتدار بھارتی طلبہ کو ملک میں بدترین تعلیمی نظام اور بیرون ملک سخت ویزا پالیسیوں نے بری طرح جکڑ لیا ہے۔