لاہور:
لاہور ہائی کورٹ نے خلع اور حق مہر سے متعلق بڑا فیصلہ جاری کردیا۔
جسٹس مرزا وقاص رؤف نے خلع کی صورت میں حق مہر کی واپسی کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے حق مہر کے قانون سے متعلق نیا قانونی نکتہ طے کر دیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ رخصتی نہ ہونے یا میاں بیوی کے ایک ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار ہوتی ہے اور ازدواجی تعلق قائم نہ ہونے سے بھی مہر کا حق ختم نہیں ہوتا۔
جسٹس مرزا وقاص رؤف نے اذکا آفرین کی درخواست پر 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر نکاح نامے میں مہر کی ادائیگی کا وقت درج نہ ہو تو پورا مہر فوری طور پر ادا کرنا لازم ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ مہر کی تفصیل واضح نہ ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق پورا مہر جب بھی طلب کیا جائے، وہ واجب الادا تصور ہوگا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ نکاح نامے میں درج 10 تولہ سونا، ایک کنال زمین اور مکان فوری ادائیگی والا مہر شمار ہوگا۔ لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ نکاح نامے میں مہر کی ادائیگی سے متعلق واضح شرط موجود نہ ہونے پر اسے مؤخر نہیں سمجھا جا سکتا۔
فیصلے کے مطابق اگر عورت خلع کی بنیاد پر شادی ختم کرنا چاہے تو وہ مہر کا 25 فیصد حصہ شوہر کو واپس کرنے کی پابند ہوگی۔ عدالت نے قرار دیا کہ خلع کی بنیاد پر شادی اسی صورت فوری ختم ہوگی جب خاتون مہر کا 25 فیصد حصہ شوہر کو واپس کرے۔
لاہور ہائیکورٹ نے اس مقدمے میں ماتحت عدالتوں کی غلطی دور کرتے ہوئے اذکا آفرین کی درخواست منظور کر لی اور حق مہر سے متعلق قانونی اصولوں کو واضح کر دیا۔