وینزویلا میں بدھ کے روز یکے بعد دیگرے آنے والے زلزلے کے جھٹکوں میں سیکڑوں بلند و بالا رہائشی عمارتیں منٹوں میں زمین بوس ہوگئیں جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 589 تک جا پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چھ سو کے قریب قیمتی جانوں کو نگلنے اور تین ہزار کے قریب شہریوں کو زخمی کردینے والا یہ زلزلہ دبے قدموں آیا کہ کہیں دفتری امور جاری تھے تو کہیں پر روایتی جشن منایا جا رہا تھا۔
ایسی ہی ایک رنگا رنگ تقریب فیسٹا دے سان خوان باؤتستا جاری تھی جو افریقی ثقافت کا ایک اہم جزو ہے۔ ہزاروں افراد سڑکوں پر جمع تھے اور ڈھول کی تاپ پر روایتی رقص سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
عین اسی وقت اچانک آنے والے شدید زلزلے کے جھٹکوں سے خوف و ہراس پھیل گیا چند لمحے قبل جو چہرے مسرت سے چمک رہے تھے اب وہ خوف سے کانپ رہے تھے اور بھاگنے کو جگہ بھی نہ تھی۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی شرکا میں بھگدڑ مچ گئی اور لوگ اپنی جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی طرف دوڑ پڑے۔
سرکاری سطح پر اس علاقے اور اس فیسٹیول میں ہونے والے جانی نقصان سے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا لیکن سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز دیکھ کر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
یاد رہے کہ وینزویلا کا یہ روایتی جشن ’’فیسٹا دے سان خوان باؤتستا‘‘ ایک روایتی تہوار ہے جو افریقی ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ جشن خاص طور پر ان قصبوں اور دیہات میں منایا جاتا ہے جہاں افرو وینزویلین برادری کی بڑی آبادی آباد ہے۔
اس روایتی جشن میں ڈھول کی تھاپ، روایتی رقص، موسیقی اور مذہبی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔