ملک میں شدید گرمی کی لہر کے دوران لاکھوں لوگ رات بھر پنکھا چلا کر سوتے ہیں۔
ایسی صورت حال میں بجلی کے بڑھتے نرخوں اور ہر گھر میں ایئرکنڈیشنر کی عدم دستیابی کے باعث پنکھا ہی زیادہ تر خاندانوں کا واحد سہارا ہوتا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ بار بار سامنے آتا رہا ہے کہ پوری رات پنکھا چلانا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا ہے یا یہ صرف ایک عام غلط فہمی ہے؟
طبی ماہرین کے مطابق پنکھا عام حالات میں نقصان دہ آلہ نہیں، بلکہ گرمی میں جسم کو ٹھنڈا رکھنے کا مؤثر ذریعہ ہے، تاہم مسئلہ اس وقت پیدا ہو سکتا ہے جب ٹھنڈی ہوا مسلسل کئی گھنٹے ایک ہی سمت میں جسم یا چہرے پر پڑتی رہے یا کمرے کا ماحول ضرورت سے زیادہ خشک ہو جائے۔
اس صورت میں بعض افراد کو صبح اٹھنے پر گلے میں خشکی، ناک بند ہونے، آنکھوں میں جلن، پٹھوں میں اکڑاؤ یا گردن اور کندھوں میں درد محسوس ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر وہ پہلے ہی الرجی یا سانس کے مسائل کا شکار ہوں۔
ڈاکٹروں کے مطابق ہر شخص پر پنکھے کے اثرات یکساں نہیں ہوتے، بلکہ کچھ افراد کو نسبتاً زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً دمہ یا الرجی کے مریض، دائمی ناک بند رہنے والے افراد، بزرگ شہری، شیر خوار بچے اور وہ لوگ جنہیں گردن یا پٹھوں کے درد کی شکایت رہتی ہو۔
ان افراد میں مسلسل ہوا بعض علامات کو بڑھا سکتی ہے، اگرچہ ہر مریض میں ایسا ہونا ضروری نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پنکھے کے بلیڈز پر گرد، مٹی یا باریک ذرات جمع ہوں تو چلنے کے دوران وہ کمرے میں دوبارہ پھیل سکتے ہیں۔ ایسے ماحول میں حساس افراد کو چھینکیں، ناک بہنا، آنکھوں میں خارش یا سانس لینے میں دشواری محسوس ہو سکتی ہے۔
اسی لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ گرمیوں کے موسم میں پنکھوں کی باقاعدگی سے صفائی کی جائے تاکہ گردوغبار دوبارہ فضا میں نہ پھیلے۔
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ رات بھر پنکھا چلانے سے جسم جم جاتا ہے، لیکن طبی ماہرین اس کی وضاحت مختلف انداز میں کرتے ہیں۔
اگر ٹھنڈی ہوا مسلسل کئی گھنٹے جسم کے ایک ہی حصے پر پڑتی رہے تو بعض افراد کے پٹھے سخت یا اکڑے ہوئے محسوس ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر گردن، کندھوں یا کمر میں یہ کیفیت زیادہ دیکھی جا سکتی ہے۔
یہ مسئلہ ہر فرد میں نہیں ہوتا اور اس کا تعلق سونے کی پوزیشن، جسمانی کیفیت اور کمرے کے درجہ حرارت سے بھی ہوتا ہے۔
ماہرین اس سوال کا جواب دیتے ہیں کہ ایسا لازمی نہیں ہے۔ اگر کمرے کا درجہ حرارت زیادہ ہو تو پنکھا جسم سے پسینے کے بخارات بننے کے عمل کو تیز کرتا ہے، جس سے جسم کو ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنکھا گرمی سے بچاؤ کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
البتہ اگر ہوا بہت گرم ہو یا درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ جائے تو صرف پنکھا ہر صورتحال میں کافی نہیں ہوتا۔ ایسے حالات میں مناسب مقدار میں پانی پینا، کمرے کو ہوادار رکھنا اور شدید گرمی سے بچاؤ کی دیگر تدابیر بھی ضروری ہیں۔
ماہرین کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔ مثلاً پنکھے کی ہوا براہِ راست چہرے یا جسم پر نہ رکھیں، رفتار درمیانی یا کم رکھیں، پنکھے کے بلیڈز کی باقاعدہ صفائی کریں، کمرے میں مناسب نمی برقرار رکھنے کی کوشش کریں، سونے سے پہلے مناسب مقدار میں پانی پی لیں، اگر دمہ یا الرجی ہے تو ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کریں اور صبح گلے یا ناک میں مسلسل خشکی محسوس ہو تو پنکھے کی سمت تبدیل کریں۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ کہنا درست نہیں کہ رات بھر پنکھا چلانا ہر شخص کے لیے نقصان دہ ہے۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ کچھ مخصوص حالات اور کچھ افراد میں مسلسل ٹھنڈی ہوا بعض علامات کو بڑھا سکتی ہے، جبکہ زیادہ تر صحت مند افراد مناسب احتیاط کے ساتھ پوری رات پنکھا استعمال کر سکتے ہیں۔
اس لیے گرمیوں میں پنکھا بند کرنے کے بجائے اس کا درست استعمال زیادہ اہم ہے۔ اگر پنکھے کی سمت، رفتار، صفائی اور کمرے کے ماحول کا خیال رکھا جائے تو نہ صرف آرام دہ نیند ممکن ہے بلکہ گرمی کے مضر اثرات سے بھی کافی حد تک بچا جا سکتا ہے۔