اسرائیل لبنان معاہدہ کے بجائے امریکا ایران مفاہمتی یادداشت نافذ العمل کی جائے؛ حزب اللہ

اسرائیل کے جنوبی لبنان سے انخلا کو حزب اللہ کے اسلحے سے مشروط کرنا ہرگز قابل قبول نہیں، حزب اللہ


ویب ڈیسک June 27, 2026
اسرائیل کے جنوبی لبنان سے انخلا کو حزب اللہ کے اسلحے سے مشروط کرنا ہرگز قابل قبول نہیں، حزب اللہ

حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکا میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے کو مکمل طور پر مسترد کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ لبنان حکومت نے اس معاہدے کو قبول کر کے ایک سنگین غلطی کی ہے کیونکہ اس سے اسرائیل کے قبضے کو قانونی جواز ملتا ہے اور لبنان کی خودمختاری متاثر ہوتی ہے۔

سربراہ نعیم قاسم نے کہا کہ اسرائیل کے جنوبی لبنان سے انخلا کو حزب اللہ کے اسلحے سے مشروط کرنا ہرگز قابل قبول نہیں اور یہ ایسی سرخ لکیر ہے جسے عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ لبنان کے دفاع اور اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مزاحمت کی صلاحیت برقرار رکھنا ناگزیر ہے اس لیے تنظیم کو غیر مسلح کرنے یا اس کے ہتھیاروں کو کسی بھی بین الاقوامی یا داخلی سیاسی معاہدے سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔

سربراہ حزب اللہ نعیم قاسم نے اسرائیل لبنان معاہدے کو کالعدم، قومی خودمختاری کے خلاف اور ذلت آمیز معاہدہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس کی جگہ حال ہی میں طے پانے والی امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کو بنیاد بنا کر نیا انتظام وضع کیا جائے۔

نعیم قاسم نے زور دیا کہ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت نے خطے میں ایک نئی سیاسی حقیقت پیدا کر دی ہے لہٰذا لبنان سے متعلق تمام سیکیورٹی اور سرحدی انتظامات کو بھی اسی نئے فریم ورک کے مطابق ترتیب دیا جانا چاہیے۔

سربراہ حزب اللہ نعیم قاسم کے اس بیان پر لبنان حکومت کا فوری ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم حکومتی حلقے پہلے ہی اس مؤقف کا اظہار کرچکے ہیں کہ ملک میں اسلحہ رکھنے کا اختیار صرف ریاستی اداروں کے پاس ہونا چاہیے۔

اسرائیلی حکومت نے بھی حزب اللہ کے تازہ بیان پر فوری تبصرہ نہیں کیا تاہم اسرائیل گزشتہ کئی ماہ سے یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ سرحدی کشیدگی کے مستقل خاتمے کے لیے حزب اللہ کو دریائے لیتانی کے شمال تک محدود کرنا اور اس کی عسکری صلاحیت ختم کرنا ضروری ہے۔