بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے رواں سال اپنے وطن واپس آنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تمام رکاوٹوں کے باوجود بنگلا دیش واپس جائیں گی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شیخ حسینہ واجد اگست 2024 میں حکومت مخالف طلبہ تحریک، ملک گیر احتجاج اور سیاسی دباؤ کے بعد وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہو کر بھارت چلی گئی تھیں۔ اس کے بعد سے وہ بھارت میں مقیم ہیں اور تقریباً دو برس سے بنگلا دیش واپس نہیں آئیں۔
شیخ حسینہ واجد نے اپنی جلاوطنی کے دوران دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ رواں سال ہر قسم کی رکاوٹ عبور کرتے ہوئے اپنے وطن واپس جائیں گی۔ تاہم انہوں نے اپنی واپسی کی حتمی تاریخ یا دیگر تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق شیخ حسینہ کی ممکنہ واپسی بنگلا دیش کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ملک میں ان کی جماعت عوامی لیگ اور موجودہ سیاسی قیادت کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں۔
دوسری جانب بنگلا دیش کی موجودہ سیاسی صورتحال، عدالتی مقدمات اور سکیورٹی معاملات کے باعث ان کی واپسی کو اہم سیاسی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے، جس پر ملکی اور بین الاقوامی حلقوں کی گہری نظر ہے۔