سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر سیف اللہ ابڑوں نے کہا ہے کہ انمول پنکی کو وزیراعظم سے زیادہ پروٹوکول دیا جارہا ہے، اُس کے خلاف کچھ نہیں ہوگا البتہ اُسے جلد صدارتی ایوارڈ دیا جائے گا۔
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں ایک بار پھر انمول پنکی گیس کا زبان زد عام رہا اس دوران چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ انمول پنکی کے پیچھے بیس بیس موبائل گاڑیاں جارہی ہیں اتنا پروٹوکول تو و،یراعظم کو بھی حاصل نہیں۔
چئیرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ صوبائی اسمبلی قائمہ کمیٹی کی چئیرپرسن نے بڑی میٹنگز ہیڈ کی تھیں، اس کمیٹی میں پولیس نے بتایا ہے کہ انمول پنکی کو لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا کی کمیٹی کو معاملے پر بریفنگ دی اور بتایا کہ انمول پنکی کو کراچی سے گرفتار کیا گیا۔ اس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ پتہ کیا جائے اس خاتون کے پیچھے کون ہے،اس کوپولیس بیس بیس گاڑیوں کا پروٹوکول کیسے مل رہا ہے۔
سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ایک سینیٹر کو سیکورٹی نہیں دے سکتے اور ایک ملزمہ کے پیچھے بیس گاڑیاں کیوں ہیں؟ سینیٹر کو چھوڑ دیں یہ خاتون تو پوری پارلیمنٹ سے بڑی ہے،جب وہ گرفتار ہوئی تھی تو پارلیمنٹ میں بھی آدھا زلزلہ آیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ انمول کے پیچھے بڑے طاقت ور لوگ ہیں، اس کو وفاقی ادارے چیک کریں گے تو کہیں پہنچا دیں گے، وگرنہ سندھ پولیس تو چالان پیش کردے گی۔
ڈی آئی جی ساؤتھ سندھ کراچی پولیس نے بتایا کہ انمول پنکی کیس میں دو نائیجیرینز کو گرفتار کیا گیا ہے، پنکی کے نیٹ ورک میں دو خواتین نے 2 نائیجیرین باشندوں سے شادی کررکھی تھی، یہ نائیجیرین باشندوں سے منشیات منگواتی تھی اور فروخت کرتی تھی۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ انمول پنکی کو آئندہ سال صدارتی اہوارڈ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی میں بیٹھ کر کہا کہ ہم اس کیس کو نہیں چھوڑیں گے، ہم نے اس کیس کی تفصیلات اس لیے طلب کی کہ طلال چوہدری کتنا اس کیس پر کام کر سکتے ہیں۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ میں اج اپ کو کہتا ہوں کہ اگر انمول پنکی سندھ میں رہے گی اس کو کچھ نہیں ہوگا، انمول پنکی کی پشت پنائی کرنے والے لوگ اب تک سامنے نہیں آئے، اس کیس کے حوالے سے میں تو کیا کوئی بھی پاکستانی مطمئن نہیں ہے، جو لوگ اس کی پشت پناہی کر رہے ہیں ان لوگوں کو سامنے لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم تو طلال چوہدری کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ اس کیس میں کیا کر سکتا ہے، مجھے امید ہے کہ انمول پنکی پر کوئی کاروائی نہیں ہوگی اور پانچ چھ سال بعد اسے ایوارڈ سے نوازا جائے گا، مجھے لگتا ہے کہ پنکی کو اگلے سال ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔