چین: سمندری پانی پینے کے قابل بنانے کے لیے ٹیکنالوجی میں اہم پیشرفت

اس پیشرفت سے مستقبل میں صاف پانی کی پیداوار کی لاگت بوتل بند پانی سے بھی کم ہو سکتی ہے


ویب ڈیسک July 01, 2026

چین کے سائنس دانوں نے شمسی توانائی کی مدد سے سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کی ٹیکنالوجی میں اہم پیشرفت حاصل کر لی ہے جس سے مستقبل میں صاف پانی کی پیداوار کی لاگت بوتل بند پانی سے بھی کم ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں میٹھے پانی کی قلت کے باعث پانی کو صاف کرنے اور دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ تاہم، موجودہ ٹیکنالوجی زیادہ تر فوسل فیول پر انحصار کرتی ہے، جس کی وجہ سے دور دراز اور سخت موسمی علاقوں میں اس کا استعمال مہنگا اور مشکل ہے۔

چائینیز اکیڈمی آف سائنسز کے محققین نے ایک نئی تھری ڈی اسٹرکچر تیار کیا ہے، جو سورج کی حرارت سے پانی کو بخارات میں تبدیل کرنے (سولر تھرمل ایواپوریشن) کے عمل کو نمایاں طور پر زیادہ مؤثر بناتی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق اس نئے اسٹرکچر میں آپس میں مضبوطی سے جڑی پولیمر زنجیریں اور کھوکھلے خول نما ڈھانچے شامل ہیں، جن کی بدولت پانی کے بخارات بننے کی رفتار پہلے رپورٹ ہونے والی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں 8.5 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت مستقبل میں شمسی توانائی کی مدد سے کم لاگت میں سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے اور پانی کی عالمی قلت پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔