کیلوریز گننے کا جنون جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے، ماہرین نے خطرناک بیماری سے خبردار کردیا

وزن کم کرنے کی خواہش میں حد سے زیادہ ڈائٹنگ، فاقہ کشی اور ہر وقت کیلوریز گننے کی عادت خطرناک ہوسکتی ہے


ویب ڈیسک July 01, 2026

ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ وزن کم کرنے کی خواہش میں حد سے زیادہ ڈائٹنگ، فاقہ کشی اور ہر وقت کیلوریز گننے کی عادت ایک خطرناک ذہنی و جسمانی بیماری اینوریکسیا نرووسا (Anorexia Nervosa) کا باعث بن سکتی ہے، جو بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کھانا چھوڑ دینے یا انتہائی کم خوراک استعمال کرنے سے وزن تیزی سے کم ہو جاتا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ طویل عرصے تک بھوکا رہنے سے جسم کا میٹابولزم متاثر ہوتا ہے اور جسم توانائی بچانے کے لیے چربی کو جلانے کے بجائے اسے ذخیرہ کرنا شروع کر دیتا ہے، جس سے صحت مزید خراب ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اینوریکسیا نرووسا کھانے سے متعلق ایک سنگین ذہنی عارضہ ہے، جس میں متاثرہ شخص وزن بڑھنے کے شدید خوف اور اپنے جسم کے بارے میں منفی تصور کی وجہ سے جان بوجھ کر خود کو خوراک سے محروم رکھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم میں غذائیت کی شدید کمی پیدا ہوتی ہے، وزن خطرناک حد تک گر جاتا ہے اور مختلف اعضا کی کارکردگی بھی متاثر ہونے لگتی ہے۔ اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ ہو تو یہ بیماری جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس بیماری کی مختلف اقسام بھی سامنے آتی ہیں۔ بعض مریض انتہائی کم خوراک کھانے کے ساتھ ضرورت سے زیادہ ورزش کرتے ہیں، جبکہ کچھ افراد سخت ڈائٹنگ کے بعد ضرورت سے زیادہ کھانا کھا لیتے ہیں اور پھر قے، جلاب یا دیگر طریقوں سے خوراک جسم سے خارج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض مریضوں کا وزن بظاہر معمول کے مطابق رہتا ہے، لیکن وہ بیماری کی دیگر علامات میں مبتلا ہوتے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس مرض کی نمایاں علامات میں وزن میں غیر معمولی کمی، ہر وقت کیلوریز گننے کا جنون، جسمانی ساخت کے بارے میں منفی سوچ، ضرورت سے زیادہ ورزش، بھوک کم کرنے والی ادویات یا جلاب کا استعمال، خوراک سے متعلق غیر معمولی حساسیت اور سماجی سرگرمیوں سے دوری شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جسمانی طور پر یہ بیماری مسلسل تھکن، کمزوری، چکر آنا، پانی کی کمی، سردی زیادہ محسوس ہونا، دل کی دھڑکن سست پڑ جانا، بالوں اور ناخنوں کا کمزور ہونا، بال گرنا اور خواتین میں ماہواری کی بے قاعدگی یا بند ہونے جیسی علامات بھی پیدا کر سکتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق اینوریکسیا نرووسا کی وجوہات میں دماغی کیمیائی تبدیلیاں، موروثی عوامل، کم خود اعتمادی، سماجی دباؤ، سوشل میڈیا پر غیر حقیقی جسمانی معیار، احساسِ کمتری اور ماضی کے نفسیاتی صدمات شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ذہنی امراض میں نسبتاً زیادہ شرحِ اموات رکھنے والی بیماریوں میں شمار ہوتی ہے اور بعض مریض خودکشی جیسے خیالات کا بھی شکار ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ عارضہ ہڈیوں کی کمزوری، دل، گردوں اور عضلات کے مسائل، بانجھ پن اور دیگر سنگین جسمانی و نفسیاتی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس بیماری کے مؤثر علاج کے لیے ماہر ڈاکٹر کی نگرانی، نفسیاتی مشاورت اور متوازن غذائی منصوبہ انتہائی ضروری ہے۔ اگر کسی شخص میں اس بیماری کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ماہرِ نفسیات یا معالج سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ بروقت علاج کے ذریعے پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔