سندھ حکومت نے سانحہ بلدیہ کے ملزمان کی رہائی کیخلاف نظرثانی اپیل دائر کردی

فیصلے میں زخمی گواہوں اور کیمیکل سے آگ لگانے کے ماہرین کے شواہد نظر انداز کیے گئے،پراسیکیوٹر جنرل سندھ


کورٹ رپورٹر July 01, 2026
سانحہ بلدیہ کیس سے رہا رحمان بھولا اور زبیر چریا کا ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد پہنچنے پر بلدیہ ٹاؤں سے منتخب رکن سندھ اسمبلی فہیم پٹنی نے استقبال کیا (فوٹو: پریس ریلیز)

کراچی:

سندھ حکومت نے سانحہ بلدیہ کیس میں ملزمان کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نظرثانی اپیل دائر کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نظرثانی کی درخواست پراسیکیوٹر جنرل سندھ شبیر شاہ نے دائر کی۔ نظر ثانی کی درخواست میں قانونی سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا حقائق اور قانون کے متصادم فیصلے کے خلاف آئین کا آرٹیکل 188 لاگو ہوتا ہے؟ حکومت سندھ نے موقف اپنایا ہے کہ زیرِ نظر فیصلہ چشم دید، طبی اور دیگر شواہد کو نظر انداز کرنے کی خامی کا شکار ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مجرموں کی بریت پر کیا قانونی ورثاء اعتراض نہیں اٹھا سکتے؟ قانونِ شہادت آرڈر 1984ء کے آرٹیکل 17 اور آرٹیکل 4 کے اطلاق پر اعتراضات ہیں، فیصلے میں زخمی گواہوں اور کیمیکل سے آگ لگانے کے ماہرین کے شواہد نظر انداز کیے گئے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کے کارکنان رحمان بھولا اور زبیر چریا کو الزامات سے بری کرتے ہوئے رہا کردیا ہے۔

عدالت نے ملزم زبیر چریا اور رحمان عرف بھولا کی اپیلیں منظور کرلی تھیں۔ سپریم کورٹ نے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت اور سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا اور ملزم زبیر چریا اور رحمان بھولا کو شک کا فائد دیتے ہوئے بری کیا تھا۔