اچھی نیند لینا کیوں ضروری ہے؟ نئی تحقیق میں اہم انکشاف

معیاری نیند صرف ذہنی سکون ہی نہیں بلکہ جسمانی صحت کے لیے بھی بے حد اہم ہے


ویب ڈیسک July 02, 2026

اگر آپ ہائی بلڈ شوگر اور ٹائپ ٹو ذیابیطس جیسے دائمی امراض کے خطرے کو کم کرنا چاہتے ہیں تو روزانہ مناسب دورانیے کی نیند کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنا لینا چاہیے۔

ڈنمارک میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اچھی اور مکمل نیند نہ صرف دماغ بلکہ جسم کے میٹابولزم اور بلڈ شوگر کو بھی صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

کوپن ہیگن یونیورسٹی کے محققین کی تحقیق کے مطابق جو نوجوان روزانہ رات میں 7 سے 8 گھنٹے سوتے ہیں، ان میں اگلے دن خون میں شوگر کی سطح زیادہ دیر تک متوازن رہتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیند، ذیابیطس جیسی بیماریوں کے ظاہر ہونے سے کئی سال پہلے ہی جسم کے میٹابولزم پر مثبت اثر ڈالنا شروع کر دیتی ہے۔

اس تحقیق میں 18 سال کی عمر کے 206 نوجوانوں کو شامل کیا گیا، جن کی دو ہفتوں تک روزمرہ کی سرگرمیوں اور نیند کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کی جسمانی سرگرمیوں اور نیند کا ریکارڈ ایکٹیویٹی ٹریکرز کے ذریعے جمع کیا گیا، جبکہ مسلسل گلوکوز مانیٹرنگ سینسرز کی مدد سے ان کے خون میں شوگر کی سطح پر نظر رکھی گئی۔

تحقیقی نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد نے زیادہ اور بہتر نیند لی، ان کے بلڈ شوگر میں اتار چڑھاؤ نمایاں طور پر کم رہا۔ ماہرین کے مطابق خون میں شوگر کی سطح کا بار بار تیزی سے بڑھنا یا کم ہونا جسم میں سوزش، میٹابولزم پر دباؤ، موٹاپے اور بعد ازاں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

محققین نے نشاندہی کی کہ اگرچہ نیند اور میٹابولک بیماریوں کے درمیان تعلق پر پہلے بھی تحقیق ہو چکی ہے، لیکن زیادہ تر مطالعات درمیانی عمر کے افراد پر کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق نوجوان اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ ذیابیطس صرف بڑی عمر کے افراد کی بیماری ہے، حالانکہ کم عمری میں بھی بلڈ شوگر کی سطح متاثر ہو سکتی ہے۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ زیادہ دیر تک سونے والے افراد میں صبح کے وقت بلڈ شوگر کی سطح معمولی زیادہ ہوتی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق یہ نقصان دہ نہیں بلکہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صبح کے وقت شوگر کی سطح میں معمولی اضافہ میٹھا کھانے کی خواہش کم کرتا ہے اور پورے دن بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے، جس سے جسم روزمرہ کی سرگرمیوں کے لیے بہتر انداز میں تیار رہتا ہے۔

اگرچہ محققین ابھی یہ واضح نہیں کر سکے کہ نیند اور بلڈ شوگر کے درمیان یہ تعلق کس حیاتیاتی نظام کے ذریعے قائم ہوتا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ نتائج اس بات کی مضبوط نشاندہی کرتے ہیں کہ معیاری نیند صرف ذہنی سکون ہی نہیں بلکہ جسمانی صحت، میٹابولزم اور مستقبل میں ذیابیطس سے تحفظ کے لیے بھی بے حد اہم ہے۔