سائنس دانوں کی ایک نئی تحقیق میں تجویز دی گئی ہے کہ اگر مستقبل میں کوئی خطرناک سیارچہ زمین سے ٹکرانے کے قریب ہو اور اسے روکنے کے لیے وقت بہت کم ہو تو اس کے اندر ایٹم بم نصب کر کے دھماکا کرنا مؤثر حکمتِ عملی ثابت ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق اس وقت ایسا کوئی معلوم سیارچہ موجود نہیں جو مستقبل قریب میں زمین کے لیے خطرہ ہو۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی وقت ایسا نیا خلائی پتھر دریافت ہو سکتا ہے، جس کے باعث انسانیت کو ردعمل کے لیے صرف چند دن ہی ملیں۔
سائنس دانوں کے مطابق زمین کے دفاع کے لیے مختلف طریقوں پر کام جاری ہے جن میں سیارچے کا رخ موڑنا یا اسے تباہ کرنا شامل ہے۔
البتہ، اگر وقت انتہائی کم ہو تو روایتی طریقے، جیسے کسی خلائی جہاز کو سیارچے سے ٹکرانا، مؤثر ثابت نہیں ہو سکتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی ہنگامی صورتِ حال میں سیارچے کے اندر ایٹم بم نصب کر کے اسے اندر سے تباہ کرنا زمین کو ممکنہ تباہی سے بچانے کا زیادہ مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے۔ لیکن، اس حوالے سے مزید تحقیق اور تجربات کی ضرورت ہے۔