فیفا ورلڈکپ: آن لائن نسلی تعصب میں خطرناک حد تک اضافہ

فیفا کے مطابق متعدد ایسے واقعات بھی سامنے آئے جن پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے


اسپورٹس ڈیسک July 02, 2026

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران سوشل میڈیا پر کھلاڑیوں کے خلاف نسل پرستانہ اور نفرت انگیز مواد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

فیفا کی سوشل میڈیا پروٹیکشن سروس کی رپورٹ کے مطابق ٹورنامنٹ کے گروپ مرحلے کے دوران 89 ہزار سے زائد توہین آمیز پوسٹس اور تبصرے سامنے آئے جو 2022 کے ورلڈ کپ کے مقابلے میں تقریباً 13 گنا زیادہ ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجموعی آن لائن بدسلوکی میں 11 فیصد مواد نسل پرستانہ نوعیت کا تھا جو گزشتہ ورلڈ کپ کے مقابلے میں 3 فیصد زیادہ ہے۔

ادارے کے مطابق جدید نگرانی کے نظام سے مواد کی نشاندہی بہتر ہوئی ہے تاہم اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ نسلی تعصب پر مبنی آن لائن حملوں کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے۔

فیفا کے مطابق 100 سے زائد ایسے واقعات بھی سامنے آئے جن پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ٹورنامنٹ کے دوران 60 لاکھ سے زیادہ پوسٹس اور تبصروں کا جائزہ لیا گیا جن میں سے تقریباً 2 لاکھ 25 ہزار کو انسانی جانچ کے لیے منتخب کیا گیا جبکہ ایک لاکھ 81 ہزار نفرت انگیز تبصرے حذف کر دیے گئے۔

واضح رہے کہ مراکش کے خلاف پنالٹی شوٹ آؤٹ میں ناکامی کے بعد نیدرلینڈز کے کھلاڑی جسٹن کلائیورٹ، کوئنٹن ٹمبر اور کرائسنسیو سمرول کو بھی سوشل میڈیا پر نسل پرستانہ اور امتیازی تبصروں کا سامنا کرنا پڑا۔