یروشلم: اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک متنازع بل کی ابتدائی منظوری دے دی ہے جس کے تحت مساجد میں اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس اقدام پر فلسطینی قیادت نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی کے خلاف قرار دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق کنیسٹ نے بل کی ابتدائی ریڈنگ میں اس کی منظوری دی۔ 120 رکنی ایوان میں ہونے والی رائے شماری کے دوران بل کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 36 ووٹ ڈالے گئے۔
یہ بل انتہا پسند دائیں بازو کی جماعت اوتزما یہودیت کی جانب سے پیش کیا گیا، جس کی قیادت اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کر رہے ہیں۔ اپوزیشن کی جماعت یسرائیل بیتینو نے بھی اس بل کی حمایت کی۔
بل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مساجد سے لاؤڈ اسپیکر پر نشر ہونے والی اذان شور کا باعث بنتی ہے اس لیے اس پر مزید سخت ضوابط نافذ کیے جائیں۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 14 کے مطابق مجوزہ قانون میں یہ بھی شامل ہے کہ کسی بھی مسجد میں ساؤنڈ سسٹم نصب کرنے یا استعمال کرنے سے پہلے متعلقہ حکام سے باقاعدہ اجازت لینا لازمی ہوگی۔
دوسری جانب فلسطینی نیشنل کونسل کے سربراہ روحی فتوح نے اس اقدام کو جرم اور قانونی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مذہبی آزادی اور عقیدے کے بنیادی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اذان صرف ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ مسلمانوں کو نماز کے اوقات سے آگاہ کرنے کا عملی ذریعہ بھی ہے، لہٰذا لاؤڈ اسپیکر پر پابندی اس کی بنیادی غرض و غایت کو متاثر کرے گی۔
یہ بل ابھی قانون نہیں بنا۔ اسے نافذ ہونے کے لیے کنیسٹ میں مزید تین مراحل سے منظور ہونا ہوگا، جس کے بعد ہی یہ باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کرے گا۔
اس معاملے پر اسرائیل اور فلسطینی حلقوں میں ایک نئی سیاسی اور مذہبی بحث چھڑ گئی ہے، جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بل کی منظوری کی صورت میں بین الاقوامی سطح پر بھی اس پر ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔