ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کا عمل ان کی شہادت کے چار مہینے بعد رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں شروع کیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق 4 جولائی سے 9 جولائی 2026 تک ایران اور عراق کے پانچ شہروں میں شہید سپریم لیڈر کا جسد خاکی دیدار کے لیے لے جایا جائے گا۔
نمازِ جنازہ اور ابتدائی رسومات 4 تا 6 جولائی تک دارالحکومت تہران میں امام خمینی گرانڈ مصلیٰ میں ادا کی جائیں گی جہاں عوام کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔
اس کے بعد 7 جولائی کو علی خامنہ ای کا جسد خاکی ایران کے مقدس شہر قم لے جایا جائے گا۔ جہاں دیدار اور تعزیتی اجلاس منعقد ہوں گے۔
جہاں سے اگلے روز یعنی 8 جولائی کو جسدخاکی جلوس کی صورت عراق کے شہر نجف اور کربلا لے جایا جائے گا اور جہاں عوام اپنے محبوب لیڈر کا آخری دیدار کریں گے۔
شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت کو 9 جولائی کو واپس ایران لایا جائے گا اور تدفین ان کے آبائی شہر مشہد میں امام رضا کے مزار پر کی جائے گی۔
ان کی نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے متعدد عالمی رہنما بھی شرکت پہنچیں گے تاہم شہید رہبر معظم کے صاحبزادے اور موجودہ سپریم لیڈر کی شرکت سے متعلق متضاد آرا ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ جس حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے تھے اسی حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای بھی زخمی ہوئے تھے جو اب تک منظر عام پر نہیں آئے ہیں اور زخمی ہونے کے باعث شاید نماز جنازہ بھی شرکت نہیں کریں گے۔
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی اپنے والد کی نماز جنازہ و تدفین میں شرکت سے متعلق حکومت کی جانب سے تاحال کوئی واضح پیغام سامنے نہیں آیا ہے البتہ اسی دوران ایران کے سپریم لیڈر کے بھارتی نمائندے نے بیان نے ہلچل مچا دی ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کے بھارت میں نمائندے آیت اللہ حکیم الٰہی نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی آخری رسومات میں شرکت نہیں کرپائیں گے۔
بھارتی ٹی وی چینل انڈیا ٹوڈے سے گفتگو میں آیت اللہ حکیم الٰہی نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی قیادت کو مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں اسی وجہ سے مجتبیٰ خامنہ ای کی عوامی سطح پر موجودگی مناسب نہیں سمجھی جا رہی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ایرانی قیادت کی سیکیورٹی اولین ترجیح ہے اسی لیے آخری رسومات میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تاہم ایران کی حکومت یا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ترجمان کی جانب سے اس بیان کی تردید یا تصدیق تاحال سامنے نہیں آسکی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے حالیہ دنوں ایرانی قیادت کے خلاف سخت بیانات دیے تھے جس میں موجودہ رہبر معظم کو بھی شہید کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔