سپریم کورٹ کی میزبانی میں منعقدہ جیل اصلاحات کانفرنس میں کہا گیا کہ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں جبکہ جیلوں کے انتظام، وسائل کی فراہمی اور اصلاحات کی بنیادی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ کی میزبانی میں منعقدہ جیل اصلاحات کانفرنس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا، جس میں کہا گیا کہ پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں، قیدیوں کے لیے ناکافی بنیادی ڈھانچہ، صحت کی دیکھ بھال اور ذہنی صحت کی خدمات تک محدود رسائی اور بحالی، تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے ناکافی مواقع ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ چیلنجز نہ صرف جیل کے انتظام کو بلکہ انصاف تک رسائی، عوامی تحفظ، انسانی وقار اور قانون کی حکمرانی کو بھی متاثر کرتے ہیں، بامعنی اور پائیدار جیل اصلاحات کے لیے ایگزیکٹو، عدلیہ اور مقننہ میں مربوط کارروائی کی ضرورت ہے۔
کانفرنس میں واضح کیا گیا کہ جیلوں کے انتظام، وسائل کی فراہمی اور اصلاحات کی بنیادی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پرعائد ہوتی ہے لہٰذا غیر ضروری قید کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو کم کرنے، جیل کے انتظام کو آئینی و انسانی حقوق کے معیارات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں۔
سپریم کورٹ کانفرنس میں کہا گیا کہ قیدیوں کے لیے حفظان صحت، غذائیت، صحت کی دیکھ بھال، ذہنی صحت کی خدمات، شکایات کے ازالے اور تشدد، بدسلوکی اور غفلت کے خلاف تحفظات میں سرمایہ کاری میں اضافے کے ذریعے جیل کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں۔
اسی طرح حراست میں موجود افراد کے لیے تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، نفسیاتی مدد، منشیات کا علاج، مہارتوں کی نشوونما اور رہائی کے بعد مدد کو بڑھا کر بحالی اور معاشرے میں دوبارہ انضمام کو فروغ دیناضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق جیل اصلاحات کے متفقہ قومی میکانزم پر عمل درآمد کے بارے میں باقاعدگی سے رپورٹ کی جائے گی اور جیل اصلاحات نہ صرف ایک انتظامی ضرورت ہے بلکہ ایک آئینی، انسانی اور عوامی تحفظ کا تقاضا بھی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ ہم ہر شخص کے وقار کے مطابق ایک ایسا جیل نظام بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کا عہد کرتے ہیں جو قانونی، انسانی اور بحالی پر مبنی ہو۔
سپریم کورٹ کی میزبانی میں منعقدہ جیل اصلاحات کانفرنس کے اعلامیے پر چاروں وزرائے اعلیٰ نے دستخط بھی کیے۔