دل اور بلڈ پریشر کی ادویات کے وسیع استعمال سے متعلق اہم انکشاف!

تحقیق امپیریل کالج لندن کے محققین نے کی


ویب ڈیسک July 04, 2026

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دل اور بلڈ پریشر کی ادویات کے وسیع استعمال کی بدولت درمیانی عمر کے موٹاپے کا شکار افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ اب صحت مند وزن رکھنے والے افراد کے قریب پہنچ گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق موٹاپا عموماً بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں اضافے کا سبب بنتا ہے، جس سے دل کی بیماریوں، ہارٹ اٹیک، فالج اور ہارٹ فیل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

تاہم، امپیریل کالج لندن کے محققین نے اپنی تحقیق میں پایا کہ 40 سال یا اس سے زائد عمر کے بہت سے موٹاپے کے شکار افراد، جو باقاعدگی سے اسٹیٹنز اور بلڈ پریشر کم کرنے والی ادویات استعمال کر رہے ہیں۔ ان میں کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی سطح بعض اوقات صحت مند وزن رکھنے والے افراد کے برابر یا اس سے بھی بہتر دیکھی گئی۔

محققین کا کہنا ہے کہ دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کی وسیع دستیابی اور استعمال صحتِ عامہ کی ایک اہم کامیابی ہے، جسے وزن کم کرنے والی نئی ادویات کی مقبولیت کے باوجود نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

امپیریل کالج لندن کے اسکول آف پبلک ہیلتھ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ماجد عزتی کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات نے درمیانی اور زیادہ عمر کے افراد میں دل کی بیماریوں کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا ہے، یہاں تک کہ یہ خطرہ اب عام باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) رکھنے والے افراد کے برابر ہو گیا ہے۔