پاکستان دنیا کے 10 بڑے ممالک میں شامل ہے جوکہ عالمی موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہیں۔ زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے،گلیشئر سکڑ رہے ہیں اور موسم اپنی فطری ترتیب کھو رہا ہے لیکن اگر دنیا کے کسی نقشے پر کسی ایک ملک کو موسمیاتی تبدیلی کے عذاب کی علامت قرار دیا جائے تو پاکستان اس فہرست میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔
عالمی ادارے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ دس بڑے ممالک میں شمارکرتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے واقعات یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ پاکستان صرف ’’دس میں سے ایک‘‘ یا در حقیقت اس عالمی المیے کا سب سے بڑا شکار؟ المیہ یہ ہے کہ پاکستان گرین ہاؤس گیسوں کے مجموعی اخراج میں ایک فی صد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے لیکن موسمیاتی تباہ کاریوں کا بوجھ غیر متناسب طور پر اسی کے کندھوں پر آ پڑا ہے۔ یہی وہ موسمیاتی ناانصافی ہے جس پر دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔
سن 2010 کا سیلاب پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جہاں تقریباً 2 کروڑ افراد اس آفت سے متاثر ہوئے، لاکھوں گھر تباہ ہوئے اور ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔ اس وقت دنیا نے اس صدی کا بدترین سیلاب قرار دیا تھا، لیکن اس وقت کی حکومت کی طرف سے عالمی موسمیاتی تبدیلی کے لیے اقدامات کو ترجیح نہ دی جا سکی۔ حالانکہ دنیا نے اسے صدی کا بدترین سیلاب قرار دیا تھا لیکن ابھی زخم بھی نہ بھرے تھے کہ 2022 میں پاکستان ایک اور قیامت سے دوچار ہوگیا۔ جنوبی سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے وسیع علاقے سمندرکا منظر پیش کرنے لگے، تقریباً ساڑھے تین کروڑ افراد متاثر ہوئے جب کہ معاشی نقصانات کا تخمینہ تیس ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا، اگست 2020 میں کراچی کی بارشوں نے ہر گھر میں تباہی مچائی تھی۔
قدرت نے پاکستان کو دنیا کے عظیم ترین آبی ذخائر سے نوازا۔ پاکستان میں گیارہ یا بارہ ہزارگلیشئرز موجود ہیں، بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت نے ان برفانی قلعوں کو تیزی سے پگھلانا شروع کر دیا ہے۔ گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، دریا بے قابو ہو رہے ہیں اور پاکستان کے بہت سے علاقے مسلسل قدرتی آفات کی زد میں ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق گزشتہ پینتیس برسوں میں پاکستان میں سیلابی رقبے میں تقریباً 4 فی صد سے بڑھ کر پندرہ فی صد تک اضافہ ہو چکا ہے، شہری علاقوں میں سیلابی خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور آبادی کی تیز رفتار بڑھوتری نے اس خطرے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پاکستان کا المیہ صرف قدرتی نہیں انتظامی بھی ہے، ہر سال مون سون سے قبل منصوبے بنتے ہیں، اجلاس ہوتے ہیں اور ہنگامی اعلانات جاری کیے جاتے ہیں لیکن عملی اقدامات نظر نہیں آتے۔ کراچی شہر میں بے شمار نالے ابھی تک کچروں کے انبار سے اٹے ہوئے ہیں اور صفائی کے منتظر ہیں۔ بارش کے بعد یہ نالے ابل پڑتے ہیں اور اس کا بھرپور ساتھ دینے کے لیے گٹر لائن کا پانی ساتھ ساتھ مل کر بہنے سے پورا شہر تعفن زدہ ہو جاتا ہے۔
اس لحاظ سے دیگر علاقوں کی نسبت کراچی کے شہری دہرے عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر 2010 کے سیلاب سے سبق سیکھ کر آئندہ برسوں میں آبی گزر گاہوں کی بحالی، جدید نکاسی آب، سیلابی بندوں کی تعمیر اور موسمیاتی موافقت کی منصوبہ بندی کر لی جاتی تو شاید 2022 یا 2025 میں آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں کا حجم کم کیا جاسکتا تھا۔حکومت کی جانب سے یہ اعتراف کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے شدید متاثر ہے اور ممکنہ سیلابی صورت حال سے نمٹنے کے لیے جامع روڈ میپ تیار کیا جائے گا، خوش آیند ضرور ہے، مگر یہ فیصلہ ہی نہیں بلکہ اس پر عملی اقدامات کا آغاز بہت جلد ہونا چاہیے۔
موسمیاتی تبدیلی کسی ایک وزارت یا ایک ڈویژن یا ایک صوبے یا ایک موسم کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ قومی سلامتی، غذائی تحفظ، لائیو اسٹاک کی زندگی اور انسانی زندگی کے علاوہ معاشی استحکام کا بنیادی مسئلہ بن چکی ہے۔آج دنیا میں موسمیاتی انصاف کی بات ہو رہی ہے، کیا یہ درست نہیں ہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے دو صدیوں تک صنعتی ترقی کے نام پر فضا کو آلودہ کیا، کاربن کے بادل پیدا کیے اور اب ان کے نتائج پاکستان، بنگلہ دیش اور افریقی ممالک جیسے ترقی پذیر اور غریب ممالک بھگت رہے ہیں۔اگر دنیا واقعی موسمیاتی انصاف پر یقین رکھتی ہے تو پاکستان کو موسمیاتی فنڈز، جدید ٹیکنالوجی، آفات سے نمٹنے کے وسائل اور قرضوں میں نرمی کی صورت میں عملی مدد فراہم کرنا ہوگی۔ اس سلسلے میں میرا اپنا خیال یہ ہے کہ عالمی موسمیاتی تبدیلی کے ماہرین کو آئی ایم ایف کو انتباہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کو قرض تھماتے وقت ایسی کڑی شرائط عائد کرنے سے باز رہے جو پاکستان کی معیشت اور عوام دونوں کے لیے زبردست بوجھ کا باعث بن جائے کیونکہ بعض ایسے منصوبے ہیں جوکہ عالمی اثرات سے بچنے کے لیے مرتب کیے جاتے ہیں جس سے آئی ایم ایف کی بعض پابندیاں آڑے آ سکتی ہیں۔
ان شرائط سے پاکستان کی معیشت کمزور ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ یورپی یونین کو جائزہ لینا پڑے گا کہ کس طرح وہ اپنی بعض ایسی شرائط سے دستبردار ہوں جس کی وجہ سے پاکستان کے لیے یورپی برآمدات میں کمی ہو رہی ہو، لہٰذا ایسی شرائط لاگو کی جائیں جن سے پاکستانی برآمدات کی یورپ روانگی میں زیادہ اضافہ ممکن ہو سکے کیونکہ زیادہ برآمدات اور مضبوط ملکی معیشت کی بنا پر ہی پاکستان موسمیاتی اثرات سے نمٹ سکتا ہے۔
2022 میں اقوام متحدہ کے سربراہ نے بھی پاکستان کا دورہ کیا اور عالمی موسمیاتی تبدیلی سے متاثر اہم ملک پاکستان کو سمجھتے ہوئے دنیا سے امداد کی اپیل کی تھی جس کے خاطر خواہ نتائج نہ حاصل ہو سکے ۔ اس وقت ہی پاکستان کا موقف یہ ہوگا کہ اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ پاکستان واحد ملک ہے جوکہ موسمیاتی تبدیلی کا اولین شکار ہے اور پاکستان وہ ملک ہے جو دنیا کی آلودگی میں نہ ہونے کے برابر حصہ رکھتا ہے اور دنیا کے وہ صنعتی ممالک جن کے اس موسمیاتی تبدیلی میں بڑے بڑے حصے ہیں ان ملکوں کی جگہ پاکستان سزا بھگت رہا ہے اور اس عذاب کو سہنے کے لیے پاکستان کو اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔