لاہور ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین کے اغواء اور مبینہ اجتماعی جنسی زیادتی کے معاملہ میں اہم پیشرفت ہوئی ہے جب کہ لاہور پولیس کو موصول ہونے والی میڈیکل رپورٹ میں ایک خاتون کے ساتھ زیادتی ثابت ہوگئی۔
پولیس ذرائع نے کہا کہ گرفتار ملزمان میں سے تین افراد نے خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، دوران تفتیش ملزمان نے خواتین سے اپنے ڈیجیٹل وائیلٹ میں 19ہزار ڈالر منتقل کرائے، ملزمان نے خواتین کےساتھ کرپٹو کرنسی میں چار سے پانچ لاکھ ڈالر انویسٹ کیے ہوئے تھے، ملزمان نے ان سے پیسوں کی واپسی کامطالبہ کیا۔
پولیس نے کہا کہ ملزمان اور خواتین کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیےلیے نمونے فارنزک لیںب بھجوا دیے گئے ہیں، ملزمان کے موبائل فون بھی فرانزک میں بھیج دیے گئے ہیں۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا نے کہا کہ لاہور فرانزک اور ڈی این اے کی رپورٹ آنے کے بعد تفتیش کو مزید آگے بڑھایا جائے گا، ملزمان کو کوئی پروٹوکول نہیں دیا جارہا ہے، عام ملزمان کی طرح پہلے دن سے اب تک حوالات بند رکھا جارہا ہے، ملزمان کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا، تفتیش کو مکمل میرٹ پر دیکھا جارہا ہے، کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی۔
لاہور: غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کا معاملہ، ’باس‘ سمیت مزید 5 ملزمان گرفتار
دوسری جانب ڈیفنس سی غیر ملکی خواتین کیساتھ اغوا اور زیادتی کے معاملے میں لاہور پولیس نے پانچویں ملزم احمد رضا ولد مظہر حیات کو بھی گرفتار کر لیا۔
پولیس ذرائع نے کہا کہ ملزم احمد رضا بھی دیگر ملزمان کیساتھ غیر ملکی لڑکیوں کو اغواء کرنے اور زیادتی کرنے کے مقدمہ میں شامل تھا، ملزم احمد رضا سے تفتیش کا عمل جاری ہے۔
دیگر زیر حراست 4 ملزمان میں محمد رضا ڈار، سکندر عزیز خان ولد عزیز، الحکیم بھٹی، حسن رضا ولد محمد رضا علی، ساجد علی ولد ذوالفقار علی شامل ہیں، ملزمان 5 روزہ ریمانڈ حوالات میں بند ہیں جن سے تفتیش جاری ہے۔