اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے مبینہ طور پر گرفتاری اور احتجاج کے خدشات کے باعث اپنا مجوزہ دورہ امریکا منسوخ کر دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اتمار بن گویر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی پولیسنگ کانفرنس میں شرکت کے لیے امریکا جانا تھا، تاہم دورے سے قبل انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے ان کے خلاف احتجاج اور قانونی کارروائی کے مطالبات کا اعلان کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ بن گویر کے خلاف تحقیقات کی جائیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اسی تناظر میں ان کے دورے کے دوران بڑے پیمانے پر مظاہروں کی بھی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ قانونی پیچیدگیوں اور احتجاجی مہم کے باعث بن گویر نے اپنا دورہ مؤخر یا منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حالیہ عرصے میں دوسری مرتبہ ہے کہ اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر نے امریکا کا مجوزہ دورہ منسوخ کیا ہے، جس سے ان کے بین الاقوامی دوروں کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں بھی جنم لے رہی ہیں۔
تاحال اسرائیلی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اپنے مطالبات پر زور دیا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اتمار بن گویر کی متنازع پالیسیوں اور بیانات کے باعث انہیں بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا رہا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ان کے غیر ملکی دورے اکثر احتجاج اور سیاسی بحث کا مرکز بن جاتے ہیں۔