راک فیلر یونیورسٹی ( Rock feller) نے سائنس کی نئی دریافت شدہ جہتوں پر ایک تحقیقی مقالہ جاری کیا ہے۔ دس بارہ ماہ میں مغرب نے جو حیرت انگیز سائنسی تحقیقات کی ہیں، وہ نہ صرف محیر العقول ہیں بلکہ ان میں سے اکثر انسانی سوچ اور صحت کے زاویوں کو تبدیل کر رہی ہیں۔ اس سارے کام کے پیچھے ان گنت سائنسدانوں کی وہ محنت اور لگن ہے جس کا ہمارے جیسے معاشرے تصور تک نہیں کر سکتے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ اس سائنسی سفر میں ایک بھی مسلمان ملک یا سائنسدان شامل نہیں ہے ۔
آپ ہر چیز کو چھوڑ دیجیے، اپنے دیس پر نظر ڈالیں۔ گزرے ہوئے ایک برس میں ہم نے کیا کارنامے سرانجام دیئے ہیں؟ طالب علم کی دانست میں معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے چینی ‘ ناجائز دولت کمانے کی پاگلوں جیسی ہوس‘ عام لوگوں کا معاشی استحصال اور ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ پورا سماج ایک زہر آلود فضا میں سانس لے رہا ہے۔ جس میں کسی قسم کا سوال پوچھنے پر پابندی ہے۔ ہمارے رویے بھی سائنسی تحقیق کے خلاف ہیں بلکہ یوں عرض کروں گا کہ ہماری اکثریت ماضی کی کہانیوں اور لوریوں کو سننے پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔
حال کی بربادی اور مستقبل کی پرچھائی ہمارے ذہن کے ہر فیصلے سے باہر ہے۔ مگر مغرب ایسا نہیں کر رہا۔ وہاں انسان کو ترقی دینے کے لیے ہوش ربا کام چوبیس گھنٹے جاری و ساری ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ سائنس ان کا اوڑھنا بچھونا اور طرز زندگی ہے۔ جیمزویب ٹیلی اسکوپ کے ذریعے ‘ وہ کائناتوں کو بنتے اور ٹوٹتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ وقت کی قید سے آزاد ہو کر سوچ کے وہ دھارے سامنے لا رہے ہیں۔ جس کا تصور تک ہمارے کم علم معاشرے میں نہیں ہوتا۔ ذرا نظر دوڑائیے کہ سابقہ دس بارہ ماہ میں سائنس کے حوالے سے کیا کیا، نایاب کام سرانجام پایا ہے۔
کینسر ایک ایسا موذی مرض ہے۔ جس کے علاج پر دہائیوں سے کوشش ہو رہی ہے۔ تھوڑے عرصے سے Immunotherapyنے اس کا علاج ممکن بنا دیا ہے۔ ہمارے ملک میں اس Therapy کرنے کے کتنے بین الاقوامی سطح کے اسپتال ہیں، اس پر بات کرنی وقت کا ضیاع ہے۔ مگر اس طرز علاج میں سائنسدانوں کو ایک نکتہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ چند اقسام کے کینسر اس طرز علاج سے بالکل ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اور کچھ کینسر اس سے بالکل درست نہیں ہو پاتے۔ Thomas Walz lab نے یہ گرہ کھول کر رکھ دی ہے۔
انھوں نے معلوم کیا کہ Tcell receptor کے اندر ایک حد درجہ مشکل کوڈ موجود ہے۔ وہ اس وقت تک متحرک نہیں ہوتا ۔ جب تک کوئی antigen ‘ اس کے ساتھ ٹکراتی نہیں ہے۔ جیسے ہی antigen ‘ ٹی سل کی membrane سے مس ہوتی ہے۔ تووہ پورا مشکل کوڈ حرکت میں آ جاتا ہے۔ اور اپنا کام شروع کر دیتا ہے۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ کینسر کے جدید ترین علاج کو Immunotherapy سے اتنا مؤثر کر دیا جائے گا کہ شائد چند برسوں بعد اس بیماری کا وجود ہی ختم ہو جائے گا۔ سوچ کر بتائیے ۔ کیا ہمارے یا پورے مسلمان ممالک میں‘ اس طرز کی کوئی سائنسی تحقیق نظر سے گزری ہے؟
ذرا آگے بڑھیے ۔ انسان کی قوت سماعت کیسے کام کرتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ کئی افراد‘ سننے کی قوت سے آہستہ آہستہ محروم ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجوہات معلوم نہیں پڑتیں ۔ سننے والا آلہ‘ کان میں لگانے سے‘ کام چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر James Hudspeth اس پر دو دہائیوں سے کام کر رہا تھا۔ اس نے ایک چھوٹا سا مصنوعی cochlea انسانی جسم سے باہر بنایا۔ پھر تحقیق کی ‘ کہ قوت سماعت کیسے کم ہوتی ہے۔اس کا کیا علاج ہے۔
عرض کرتا چلوں کہ Cochlea اندرونی کان کا وہ نازک ترین حصہ ہے جو ہر انسان کو سننے کی قوت فراہم کرتا ہے۔ اس نے دریافت کیا کہ انسانی بال کس طرح آنے والی آواز کو بڑھاتے ہیں۔ اور Hair cells کس طرح ساخت بدل کر آواز کوتقویت دیتے ہیں۔ Auditory Biologyمیں یہ بھی پتہ لگایا کہManmal اور کیڑے مکوڑے ایک ہی طرز سے آوازیں سنتے ہیں۔ جیسے Hopf bifurcation کا نام دیا گیا ہے۔ اس ایجاد سے ‘ انسان کی قوت سماعت کو بڑھانے کے لیے کسی آلہ کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اور cochleaکے طزر عمل کو تبدیل کیا جا سکے گا۔
(Genes) جینز کی دنیا‘ محض چند برس پہلے دنیا کے سامنے آئی ہے۔ مگر Li zhao lab سے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے کہ لوگ ششدر رہ گئے ہیں۔ لی نے De novo genes کا انکشاف کیا ہے۔یہ نئی جینز کیسے پیدا ہوتی ہیںاور کس طرح انسان کی صحت کو بہتر کر سکتی ہیں۔ یہ سب کچھ اب ایک منفرد کوڈ کے ذریعے سامنے آ چکا ہے۔ اس سے پہلے‘ یعنی تقریباً ایک سال قبل‘ ڈی نوووجینز کے وجود کا علم ہی نہیں تھا۔ سیڑھی نما genetic code کو کہاں سے توڑنا ہے۔
کونسی بیماری کی جینز کو بچہ پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم کر دینا ہے۔ یہ سب تو عملی طور پر ہو رہا تھا۔ مگر De novo genes کا وجود‘ اور ان کو متحرک کرنا کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا۔ عملی دنیا میں‘ یہ تحقیق انسانی بیماریوں کو مکمل طور پر ختم کر دے گی۔ اور اس سے evolutionary Biology کی بنیاد بھی تبدیل ہو جائے گی۔ جینز کی دنیا میں انقلاب کے انسانی نسل پر کتنے مثبت اثرات پڑیں گے۔ قیافہ لگانا قدرے مشکل ہے یا آج کے ماحول میں ناممکن ہے۔
آپ کو اردگرد‘ بہت سے ایسے بزرگ نظر آئیں گے۔ جن کے اعضاء خود بخود ہلتے رہتے ہیں۔اوروہ اس کو کسی صورت میں کنٹرول نہیں کر سکتے۔ساتھ ساتھ یاد داشت کا کم ہونا بھی عام فہم سی بات ہے۔ دراصل Alzheimerاور اس کے ساتھ منسلک متعدد دماغی بیماریاں‘ انسانی ذہن کو ختم کر کے رکھ دیتی ہیں۔ Stellar Lab Hermannنے دماغ کے خلیوں پر دقیق تحقیق کی ہے۔ انھیں معلوم ہوا ہے کہ Neurons یعنی دماغی خلیے جہاں دوسرے خلیوں سے ملتے ہیں ۔
اس نازک ترین جوڑ پر ایک خطر ناک Protein جمع ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے دماغی خلیے‘ ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ انھوںنے پتہ لگایا کہ P131‘ نام کی پروٹین‘ جوڑوں پر نقصان دہ جزئیات کو جمع نہیں ہونے دیتی۔ اور اس طرح دماغی خلیےdegenerate ہونے سے بچ جاتے ہیں۔ یہ Alzheimer کے مرض کا وہ علاج ہے۔ جس کا تصور بھی پہلے نہیں کیا جا سکتا ہے۔ آپ یہ سمجھئے کہ دماغی خلیوں کے جوڑوں کی صفائی کا نظام تخلیق کر لیا گیا ہے۔ صرف ایک اس تحقیق سے دنیا میں کروڑوں افراد کی زندگی حد درجہ بہتر ہو جائے گی۔
آپ نے دیکھا ہو گا کہ موٹاپا‘ ایک بار چڑھ جائے تو اترنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ موٹے افراد اس موذی بیماری کو اتارنے میں ناکامی کی وجہ سے شوگر‘ بلڈ پریشر اور دیگر بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ Friedman Labنے وزن بڑھانے کے ہمارے پراسس کو الٹا کرنے کا نایاب کام سرانجام دے ڈالا ہے۔ آسان زبان میں عرض کروں گا۔ دراصلHypothalmic سینٹر کو وزن بڑھنے کے سگنل ملنے بند ہو جاتے ہیں۔ اور انسانی دماغ اس استطاعت سے ہی محروم ہو جاتا ہے کہ اسے معلوم پڑے کہ موٹاپا بڑھتا جا رہا ہے۔ تحقیق نے Leptin resistenceکو ختم کرنے کا طریقہ معلوم کر لیا ہے، یعنی موٹاپا اب قابل علاج مرض ہے۔
اب توجہ ایک اور اہم نقطے کی طرف مبذول کرواتا ہوں۔ سائنس دانوں کے ذہن میں ہمیشہ یہ سوال رہا ہے کہ بالآخر کیسے اور کیوں کر انسان کوئی بھی زبان بولنا شروع ہو گیا۔2025 میں ‘ Robert B- Darnell لیبارٹری نے ایک حیرت انگیز چیز دریافت کی ۔ RNAنامی پروٹین ‘ جسے نووا ون کہا جاتا ہے۔ اسی کی بدولت انسان ایک دوسرے کے ساتھ بات کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتا ہے۔ سائنسدانوںکا کہنا ہے کہ نووا ون کی موجودگی اور غیر موجودگی وہ بنیاد ہے جس سے آج کے انسانوں میں بولنے کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ اس پروٹین کو سمجھنے کے لیے Darnellنامی سائنسدان نے اپنی پوری عمر گزار دی۔
vanessa Ruta نے پھلوں پر بیٹھنے والی مکھیوں پر تحقیق کی ۔ دیکھا کہ یہ مکھیاں اپنے دشمنوں پر حیرت انگیز طریقے سے حملہ کرتی ہیں۔ ان کے اندر ایک خاص طرز کی آواز استعمال کرتی ہیں جس سے مخالف مکھیوں کی آواز کو منجمد کر دیا جاتا ہے۔ معلوم پڑا کہ ان کے دماغ میں ایک خاص طرز کا سرکٹ موجود ہے جس کی بدولت وہ یہ سب کام کرتی ہیں۔ مکھیوں کے درمیان یہ عمل دیکھ کر ونیسا نے انسانوں پر تحقیق شروع کر دی ۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ وہ دماغی نظام انسانوں کے اندر بھی موجود ہے جس کی بدولت وہ کچھ لوگوں سے مقابلہ کرتے ہیں اور کچھ لوگوں سے اچھے تعلقات بناتے ہیں۔ گذشتہ ایک سال میں مغرب میںکتنی اعلی سطح کی سائنسی ترقی ہوئی ہے۔ اس کی مسلمان دنیا کو خبر تک نہیں ہے۔ شائد اگلے کئی سال معلوم بھی نہیں ہو گا۔ ویسے ‘ ہمارا یعنی مسلمانوں کا سائنس کی دنیا سے کیا لینا دینا؟ یہ تو موئے فرنگیوں کا کام ہے؟ ہم نے تو صرف اور صرف اپنی جہالت پر ہی فخر کرنا ہے؟ بھلا ہمارا سائنس سے کیا تعلق؟