اوہ بابر! پھر وہی غلطی

 بورڈ نے پلیئرز پاور ختم کرنے کے چکر میں ٹیم کی یکجہتی ہی ختم کر دی تھی


سلیم خالق July 06, 2026

’’ سوچنا بھی منع ہے‘‘

آپ کو یاد رہے کہ جب بابر اعظم کو کپتانی سے ہٹانے کی باتیں ہو رہی تھیں تو ایسی ٹویٹس بھی سامنے آئی تھیں، اس وقت بابر، رضوان اور شاہین بہترین دوست تھے، کرکٹ حکام کو محسوس ہونے لگا تھا کہ یہ گروپ ان سے زیادہ مضبوط ہو گیا ہے، یہ سب ایک ہی کے ’’زیرسایہ ’’ تھے، قومی ٹیم میں نئے کرکٹرز کی انٹری تقریبا بند تھی، سلیکٹرز کی بھی زیادہ نہیں چلتی تھی، سینٹرل کنٹریکٹ پر باقاعدہ ڈکٹیشن دی جانے لگی تب بورڈ کو لگا پانی سر سے اونچا ہو رہا ہے۔

ایسے میں انگریزوں کی ’’ تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی پر عمل کیا گیا، دوست دوست نہ رہا، کپتانی کے چکر میں آپس کے تعلقات خراب ہوئے، اس کا ٹیم کو بھی نقصان ہوا، اس کے بعد صورتحال کبھی بہتر نہ ہوئی، ایک واقعہ یہ بھی سامنے آیا جب شاہین نے بابر سے کہا کہ ’’ تم کو اگر کپتان بننا ہے تو میں عہدہ چھوڑ دیتا ہوں‘‘ بابر نے انکار کیا لیکن چند روز بعد وہی پریس کانفرنس میں بیٹھ کر بطور قائد اپنے منصوبے بتا رہے تھے۔

بورڈ نے پلیئرز پاور ختم کرنے کے چکر میں ٹیم کی یکجہتی ہی ختم کر دی تھی، گوکہ اب سب ساتھ بیٹھتے ہیں لیکن ماضی والی دوستی نہیں رہی، بابر اعظم کو کئی بار کپتان بنا کر پھر ہٹایا گیا، ان کی فین فالوئنگ بہت ہے، اگر ان کی کپتانی میں ٹیم ورلڈکپ بھی ہار جائے تو اصل اور ’’سائے والے‘‘ ایسی سوشل میڈیا کیمپیئن چلاتے ہیں کہ لگے پاکستان خراب نہیں کھیلا یہ تو دوسری ٹیم کا قصور تھا وہ کیوں اچھا کھیلی، ابھی جو ماحول ہے اس میں یہی صورتحال سلیکٹرز کو سوٹ کرتی ہے۔

آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ میں پاکستان ٹیم سب سے آخری نمبر پر ہے، رینکنگ میں سیکنڈ لاسٹ پوزیشن ہے، بنگلہ دیش تک نے ہمیں 2 سیریز میں ہرا دیا، اب اگر خدانخواستہ مزید خراب نتائج آئے تو ’’بابرآرمی‘‘ دفاع کیلیے موجود ہو گی، شان مسعود کو کپتانی سے ہٹانا بالکل درست ہے، وہ 16 میں سے 12 ٹیسٹ ہار کر دوسرے ناکام ترین پاکستانی کپتان ہیں۔

پہلے نمبر پر وہی مصباح الحق ہیں جو اب بطور سلیکٹر آپ کو پہلی بار پریس کانفرنس میں نظر آئے، ورنہ شاید لوگوں کو ان کی اس پوسٹ کا یاد ہی نہ ہو، یہ ان ’’خوش نصیب‘‘ مینٹورز میں شامل تھے جن کا میٹر چلتا رہا، مصباح، عاقب اور ایک اور نان کرکٹر صاحب تھے جنھوں نے بابر کو کپتان بنانے کی مہم چلائی، ان کو کسی نے نہ ’’ٹوکا‘‘۔

چیئرمین محسن نقوی کو تو جو سفارشات ملی ہیں انہی پر عمل کرنا تھا، کیا یہ اچھا نہیں ہوتا کہ کسی اور کو قیادت سونپ کر بابر کو بیٹنگ پر توجہ دینے دیتے، انھوں نے اپنی آخری ٹیسٹ سنچری دسمبر 2022 میں نیوزی لینڈ کیخلاف بنائی تھی۔

اس کے بعد سے16 ٹیسٹ میچز میں محض 4 نصف سنچریوں کی مدد سے انھوں نے 836 رنز ہی بنائے ہیں، اس دوران اوسط 26.96 رہی، اب پھر ان کو کپتانی کے چکر میں لگا دیا گیا ، اگر وہ رنز نہ کر سکے تو نقصان ٹیم کا ہی ہو گا، سلیکشن کمیٹی نے شاہین آفریدی کو ڈومیسٹک کرکٹ نہ کھیلنے پر ڈراپ کیا۔

ایسے میں یہ سوال بھی ذہن میں آتا ہے کہ پھر بابر نے کتنے ڈومیسٹک فرسٹ کلاس میچز کھیلے تھے؟ کوئی نہیں، میں ہرگز بابر کا مخالف نہیں، بطور بیٹر میں ان کے مداحوں میں شامل ہوں، البتہ اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ ان کے مشیر کون ہیں جو انھیں بار بار استعمال ہونے سے نہیں روکتے، وہ کیوں کپتانی قبول کر لیتے ہیں،اس میں کیا سرخاب کے پر لگے ہوتے ہیں، سوائے ڈیلی الائونس بڑھ جانے کے اور کیا فائدہ ہوتا ہے؟ کپتانی کو تو کانٹے کا تاج کہا جاتا ہے، سچن ٹنڈولکر ہوں یا ویراٹ کوہلی کون اس پوسٹ میں بہت کامیاب رہا؟ میں مانتا ہوں اس وقت پاکستان کے پاس آپشنز کی اتنی کمی ہے کہ امام الحق بھی اپنے آپ کو اس ’’ دوڑ‘‘ میں شامل کر رہے تھے۔

بہترین طریقہ یہ ہوتا ہے کہ آپ پہلے پلیئنگ الیون بنائیں پھر ان میں جو سب سے اچھا کپتان لگے اسے ذمہ داری سونپ دیں، سینئر جونیئر یہ باتیں نہ دیکھیں، سعود شکیل کو انجری مسائل ہیں تو سلمان علی آغا پر اتنے عرصے ٹی ٹوئنٹی میں انویسمنٹ کیوں کی؟ مجھے ایسا لگتا ہے شاید بابر سے یہ کہا گیا کہ انھیں ٹیسٹ کے ساتھ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں بھی کپتان بنا دیں گے تب ہی وہ مان گئے، البتہ بابر کو ماضی یاد رکھنا چاہیے، میں آپ کو بتاتا چلوں کہ ٹی ٹوئنٹی میں کپتانی کے پہلے ہی 2 کھلاڑیوں کو خواب دکھائے جا چکے ہیں۔

آج جو سلیکٹرز بابر کے آگے پیچھے گھوم رہے ہیں، اگر خدانخواستہ اگلی سیریز میں نتائج اچھے نہ رہے تو سارا ملبہ ان پر ڈال کر وہ سائیڈ میں ہو جائیں گے،پاکستان میں کسی بات کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، یہاں تو یہ بھی ممکن ہے مستقبل میں عباس کو کپتان بنا دیں لہذا بابر کو ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے، وہ کپتانی کے چکر میں ویسے ہی اپنے کئی قیمتی سال ضائع کر چکے، پہلے دنیا کے 5 بہترین بیٹرز میں شمار ہوتا تھا اب رینکنگ میں بھی 19 واں نمبر ہے، بابر کے چاہنے والوں کو شاید میری باتیں اچھی نہ لگیں اور سوشل میڈیا پر برا بھلا کہیں لیکن میں پھر بھی یہی کہوں گا کہ بابر جیسی صلاحیتوں کے حامل کرکٹر کو صرف اپنے کھیل پر توجہ دینی چاہیے ، وہ جان بوجھ کر ہر بار غلطی کر جاتے ہیں۔

بطور پاکستانی میری یہی خواہش ہے کہ وہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ میں زبردست پرفارم کر کے ٹیم کو دوبارہ سے فتوحات کی راہ پر گامزن کریں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ بیٹنگ کا زیادہ سوچیں گے تو کپتانی کے معاملات سامنے آ جائیں گے، اگر کپتانی کو ذہن پر سوار کیا تو بیٹنگ متاثر ہو گی، اتنے عرصے بعد اب محسوس ہو رہا تھا کہ شاید ماضی والا بابر ہمیں واپس مل جائے لیکن اب انھوں نے خود ہی اپنے آپ کو چیلنجنگ صورتحال میں ڈال دیا ہے، اب ہم دعا ہی کر سکتے ہیں کہ وہ کامیاب رہیں

تحریر کردہ
سلیم خالق

saleem-khaliq

مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔