روس کے بڑھتے ہوئے میزائل حملوں کے تناظر میں ناروے نے یوکرین کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے 3 ارب نارویجن کرونر تقریباً 30 کروڑ 62 لاکھ ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس اور یوکرین جنگ کے دوران فضائی حملوں میں شدت آنے کے بعد ناروے نے یوکرین کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔
یہ رقم خصوصاً بیلسٹک میزائلوں سے دفاع کے لیے استعمال ہوگی جبکہ ناروے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر امریکا سے نئے پیٹریاٹ میزائل بھی خریدے گا۔ جس کا بنیادی مقصد یوکرینی شہروں اور اہم تنصیبات کو روسی بیلسٹک میزائل حملوں سے محفوظ بنانا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق ناروے ڈنمارک، جرمنی اور کینیڈا کے ساتھ مل کر امریکا میں واقع فیکٹری سے پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے لیے نئے انٹرسیپٹر میزائل خریدے گا۔ یہ میزائل براہِ راست یوکرین کی فضائی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے فراہم کیے جائیں گے۔
پیٹریاٹ نظام کی اہمیت کیوں بڑھ گئی؟
حالیہ دنوں روس نے یوکرین پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے بڑے حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں کئی بیلسٹک میزائل اس لیے نہیں روکے جا سکے کیونکہ پیٹریاٹ PAC-3 انٹرسیپٹر میزائلوں کی شدید کمی ہے۔
ماہرین کے مطابق پیٹریاٹ نظام اس وقت یوکرین کا سب سے مؤثر دفاعی ہتھیار ہے جو بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ناروے پہلے بھی بڑا معاون رہا ہے
ناروے پہلے ہی نینسن سپورٹ پروگرام کے تحت 2026 میں یوکرین کے لیے مجموعی طور پر 85 ارب نارویجن کرونر مختص کرچکا ہے جن میں 70 ارب کرونر فوجی امداد اور 15 ارب کرونر سول امداد شامل ہیں۔
اس پروگرام کے تحت ڈرونز، فضائی دفاع، توپ خانے کے گولہ بارود اور دیگر دفاعی سازوسامان کی فراہمی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
روسی حملوں کے بعد فوری ضرورت
یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب روس نے حالیہ دنوں کیف سمیت کئی شہروں پر درجنوں بیلسٹک اور کروز میزائل داغے۔
یوکرینی حکام کا کہنا تھا کہ ڈرونز اور کروز میزائلوں کی بڑی تعداد کو تو تباہ کر دیا گیا تاہم بیلسٹک میزائلوں کو روکنے میں شدید مشکلات پیش آئیں کیونکہ ان کے لیے درکار پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز محدود تعداد میں دستیاب ہیں۔
نیٹو ممالک کی مشترکہ حکمت عملی
ناروے، جرمنی، ڈنمارک اور کینیڈا کی مشترکہ خریداری کا مقصد صرف فوری مدد فراہم کرنا نہیں بلکہ امریکا اور یورپ میں پیٹریاٹ میزائلوں کی پیداوار اور فراہمی کے عمل کو بھی تیز کرنا ہے تاکہ یوکرین کے ساتھ ساتھ نیٹو ممالک کی دفاعی ضروریات بھی پوری کی جا سکیں۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی مسلسل مغربی اتحادیوں سے جدید فضائی دفاعی نظام اور مزید پیٹریاٹ میزائلوں کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ روس کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر یوکرین کے لیے فضائی دفاع اس وقت سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔