چین کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں مسلسل طوفانی بارشوں نے معمولِ زندگی مفلوج کر دیا ہے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر حادثات میں اب تک 15 افراد ہلاک، 275 زخمی جبکہ 9 افراد لاپتا ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بارشوں کے باعث متعدد شہروں میں دریا بپھر گئے، سڑکیں اور پل زیر آب آ گئے جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ حکام نے متاثرہ علاقوں سے ہزاروں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے ہنگامی اجلاس کے بعد متعلقہ اداروں کو امدادی سرگرمیاں مزید تیز کرنے، زخمیوں کو فوری طبی سہولتیں فراہم کرنے اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی کو اولین ترجیح بنانے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب جنوبی چین کے خودمختار علاقے گوانگشی میں سمندری طوفان میساک کے اثرات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث کم از کم 2 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 48 ہزار سے زائد افراد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
گوانگشی کے دارالحکومت ناننگ میں سیلاب کی ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ایک آبی ذخیرے کا بند ٹوٹنے سے کئی رہائشی علاقے زیر آب آ گئے، جس کے بعد امدادی اداروں نے کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کر دیا۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران مزید بارشوں کا امکان ہے، جس کے باعث سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات برقرار رہیں گے۔ نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔