سندھ حکومت کا تعلیمی بورڈز میں جدید ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کے امتحانی نظام کے نفاذ کا فیصلہ

وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز کا ایشیائی ترقیاتی بینک کے نمائندوں کے ساتھ سیکریٹری جامعات کے دفتر میں اہم اجلاس ہوا


ویب ڈیسک July 08, 2026

سندھ حکومت نے سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپروومنٹ پروجیکٹ کے تحت تمام تعلیمی بورڈز میں جدید ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کے امتحانی نظام کے نفاذ کا فیصلہ کیا جب کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے تعلیمی بورڈز کے عملے کی آئی ٹی ماہرین سے خصوصی تربیت اور بورڈز کو جدید آلات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر جامعات و تعلیمی بورڈز محمد اسماعیل راہو کا ایشیائی ترقیاتی بینک کے نمائندوں کے ساتھ سیکریٹری جامعات کے دفتر میں اہم اجلاس ہوا، اجلاس میں سیکریٹری جامعات محمد عباس بلوچ، صوبے بھر کے انٹرمیڈیٹ، سیکنڈری اور ٹیکنیکل تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز نے شرکت کی۔

اجلاس میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کے نمائندوں مسٹر خرم، مس مارلا، مس ثمینہ اور ڈاکٹر عثمان نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر رضوان سومرو، ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر لقمان نوہڑی اور امتحانی اصلاحات کے ماہر عطا حسین لاکھو بھی موجود تھے۔

اجلاس میں سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپروومنٹ پروجیکٹ کے تحت امتحانی نظام کی جدید کاری، ای مارکنگ، ڈیجیٹلائزیشن اور تعلیمی بورڈز کی استعدادِ کار بڑھانے پر غور کیا گیا۔

وزیر جامعات نے کہا کہ سندھ کے تعلیمی بورڈز میں روایتی امتحانی طریقہ کار کے بجائے ای مارکنگ متعارف کرائی جا رہی ہے، اس اہم منصوبے کی منظوری کے لیے تجاویز سندھ کابینہ میں پیش کی جائیں گی، سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد منصوبے پر تیز رفتاری سے عملدرآمد کیا جائے گا، ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے تعلیمی بورڈز کے عملے کی استعدادِ کار کے لیے آئی ٹی ماہرین خصوصی تربیت فراہم کریں گے۔

محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ منصوبے کے تحت تمام تعلیمی بورڈز کو اسکینرز، کٹنگ مشینیں، سرورز اور دیگر جدید آلات بھی فراہم کیے جائیں گے۔

ترجمان نے کہا کہ چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی فقیر محمد لاکھو کو امتحانی نظام کی جدید کاری کے منصوبے کا فوکل پرسن نامزد کر دیا گیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے شروع کیے جانے والے اصلاحاتی اقدامات سندھ کے امتحانی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے، تعلیمی بورڈز کی ادارہ جاتی استعدادِ کار میں بھی اضافہ ہوگا، امتحانی اور گورننس سسٹم کو ڈیجیٹلائز کرنے سے میرٹ، شفافیت اور امتحانی نظام کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔