بھارتی جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف امریکا، کینیڈا اور یورپ میں بڑی کارروائیوں کے باعث دنیا بھر میں سرگرم مودی کا دہشت گرد نیٹ ورک عیاں ہوگیا۔
امریکا میں سامنے آنے والی تحقیقات نے بھارت سے منسلک سرحد پار مجرمانہ دہشت گرد سرگرمیوں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بھارت میں مقیم بین الاقوامی مجرمانہ نیٹ ورکس، ڈائیسپورہ کو دھمکیاں، غیر ملکی سرزمین پر ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور منظم جرائم اب بین الاقوامی قوانین کی زد میں ہیں۔
امریکی پراسیکیوٹرز کے مطابق بشنوئی گینگ سمیت بھارت میں قائم تین منظم جرائم گروپوں سے تعلق کے الزام میں امریکا، کینیڈا اور یورپ میں 24 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ملزمان پر الزام ہے کہ یہ 2023ء میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے کینیڈا میں ہونے والے قتل کی منصوبہ بندی کرنے میں شامل تھے۔
امریکی وفاقی استغاثہ کے مطابق گرفتاریاں بھارتی مجرمانہ نیٹ وررکس کے بارے میں جاری تحقیقات کا نتیجہ ہیں جو دنیا بھر میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور منشیات کی اسمگلنگ میں مصروف ہیں۔ یہ مقدمہ امریکا، کینیڈا اور یورپی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائی ’’آپریشن ہارڈ بال‘‘ کا حصہ ہے۔
امریکی حکام نے ٹانڈہ، پنجاب کے ایس ایچ او گروندر جیت سنگھ ناگرا پر امریکا میں ایک خاندان سے بھتہ خوری میں گینگسٹرز کی معاونت کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ الزام کے مطابق خاندان کو بھارت میں رشتہ داروں کے خلاف جھوٹے قتل مقدمات درج کرانے کی دھمکیاں دی گئیں۔
ماہرین کے مطابق بھارت کی ذمہ دار اور قابلِ اعتماد سیکیورٹی شراکت دار کے طور پر پیش کرنے والی عالمی ساکھ کے پس پردہ ریاستی دہشت گردی کھل کر سامنے آگئی۔ ہردیب سنگھ نجر قتل کیس کی تحقیقات نے بھارت کے زیر سرپرستی ’’را‘‘ کے بین الاقوامی مجرمانہ نیٹ ورک اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ذمہ دار ریاست کے تاثر کو مضبوط بنانے کے لیے ماضی میں مہمات بھی چلائی گئیں، تاہم حالیہ مقدمات نے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، یہ تحقیقات بھارت کی ریاستی سرپرستی میں انتہا پسندی اور بیرون ملک مجرمانہ نیٹ ورکس کی پشت پناہی کی نشاندہی کرتی ہے۔