ایران نے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے یکطرفہ فوجی کارروائیوں اور حملوں کے ذریعے معاہدے کو نقصان پہنچایا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا نے مفاہمتی یادداشت کی پانچویں شق کی خلاف ورزی کی۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس شق میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے انتظامات کی ذمہ داری ایران کے سپرد کی گئی ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ امریکا نے معاہدے کے برخلاف یکطرفہ فوجی اقدامات اور جارحانہ حملے کیے جس سے نہ صرف مفاہمتی یادداشت کا ڈھانچہ متاثر ہوا بلکہ خطے میں کشیدگی بھی مزید بڑھ گئی۔
ایرانی ترجمان نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے بین الاقوامی حقوق کے تحت آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہے گا تاہم معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں ایران مناسب ردعمل دینے کا اختیار رکھتا ہے۔